بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن اب قومی آپریشن کی شکل اختیار کر گیا ہے، میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ

datetime 3  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گذشتہ برس شروع کیے جانے والا فوجی آپریشن اب قومی آپریشن کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران قبائلی علاقہ جات سے باہر پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی ہزاروں کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں چار ہزار افراد گرفتار ہوئے ہیں۔جمعے کی شب بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر ملک کی سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کے اتفاقِ رائے سے ظاہر ہے کہ وہ فوج کی جانب سے ایک علاقے میں شروع کی گئی کارروائی آج ملک بھر کی لڑائی بن چکی ہے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جمعے کو ہی پانچ گھنٹے طویل کل جماعتی کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لیے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔اس سوال پر کہ ایک جمہوری ملک میں فوجی عدالتوں کی کیا جگہ ہے، فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ عظیم تر جمہوریت کی جانب ایک قدم ہے جس کا فیصلہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے مفاد میں کیا ہے۔‘پشاور کے واقعے کے بعد خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ضربِ عضب سے پہلے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فاٹا سے باہر پاکستانی علاقوں میں بھی ہزاروں کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں چار ہزار مبینہ دہشت گردوں، ان کے مددگاروں اور ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ان بیس نکات میں سے صرف ایک نکتہ ہے جو قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے کوئی واضح فرق نہیں پڑے گا اور ’واحد فرق ان عدالتوں میں فوجی نظم و ضبط کی موجودگی کا ہوگا۔‘خیال رہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی کہا ہے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں لیکن یہ غیر معمولی حالات کی ضرورت ہیں اور ’حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی (عدالتی) نظام واپس اپنی اصل حالت میں آ جائے گا۔‘پاکستانی فوج کے ترجمان نے شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس جون میں شروع کیے جانے والے آپریشن ضربِ عضب کو ملک سے ’دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز‘ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے بھی کارروائیاں تیزی سے جاری تھیں لیکن اس واقعے کے بعد خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…