بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ کی سپریم کورٹ کی مسلمان عورتوں پر انوکھی پابندی، جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 2  جنوری‬‮  2015 |

لندن : برطانیہ کی ایک اعلیٰ جج کی طرف سے مسلمان عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عدالتوں میں پیشی کے دوران برقع پہن کر حاضر نہ ہوں اور گواہی دیتے ہوئے اپنے چہرے سے نقاب اتار دیں تاکہ ججز کو ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنے اور اس کے حوالے سے فیصلے کرنے میں آسانی ہو ، اگرچہ برطانوی مسلمانوں کی اکثریت عدالتوں میں برقع اتار کر گواہی دینے کے حق میں ہے تاہم اس کے باوجود بعض خواتین اس بات پر بضد ہوتی ہیں کہ وہ مردوں کی عدالت میں ججز اور دوسرے مردوں کو اپنا چہرہ نہیں دکھائیں گی ۔ جبکہ علمائے کرام اور کمیونٹی تحقیقات کا اس پر اتفاق ہے کہ دوسری سیکورٹی وجوہات کی بناء پر خواتین کو برقع اتارنے اور چہرہ دکھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان جن ممالک میں رہتے ہیں انہیں ان کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے ۔ برطانیہ کی سینئر ترین جج اور سپریم کورٹ کی نائب صدر بیرونس ہیل نے قرار دیا ہے کہ عدالتوں کو خواتین کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ برقع پہن کر اپنے چہرے کو چھپا کر گواہی دیں ۔ انہوں نے ایک کیس میں ایک مسلمان خاتون کی گواہی کے حوالے سے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اس بات کا حق حاصل ہے کہ اگروہ ضروری سمجھیں تو عدالتوں میں پیش ہونے والی عورتوں سے کہیں کے وہ اپنے برقع کو اتار کر بات کریں تاکہ ججز ان کے چہروں کیکو واضح طور پر دیکھ سکیں ۔ اس بارے میں لارڈ چیف جسٹس لارڈ تھامس نے واضح ہدایت کی ہے کہ یہ اعلیٰ عدلیہ اور مجسٹریٹس کی صوابدید ہے کہ وہ ہر گیس کی نوعیت دیکھ کر اس بات کافیصلہ کریں کے آیا عورت کو برقع اتارنے کا کہنا ہے یا نہیںَ ؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…