بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والوں کیلئے خوشخبری، نیپال کی حکومت نے فیس کم کر دی

datetime 2  جنوری‬‮  2015 |

کٹھمنڈو۔۔۔۔ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے 2015 ایک اچھی خبر کے ساتھ شروع ہوا ہے اور وہ یہ کہ نیپال کی حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے خواہشمند افراد سے لی جانے والی فیس میں کمی کر دی ہے۔نیپالی حکومت کی جانب سے یہ اعلان نئے سال کے آغاز پر کیا گیا ہے۔دنیا کا بلند ترین پہاڑ سر کرنے کے خواہشمند افراد کو اب سابقہ فیس کا نصف سے بھی کم ادا کرنا ہوگا۔ماضی میں نیپال آنے والے غیر ملکی کوہ پیما حکام کو 25 ہزار ڈالر بطور فیس ادا کرتے تھے تاہم اب یہ رقم کم کر کے 11 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔نیپالی حکام نے ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دیگر پہاڑوں پر چڑھنے کی فیس بھی کم کی ہے۔
نیپال کے محکمہ سیاحت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں کوہ پیمائی کو فروغ دینا ہے۔
تاہم اس فیصلے سے کچھ کوہ پیما خوش نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایورسٹ پر چڑھنے والے افراد کی تعداد پہلے ہی زیادہ ہے اور فیس میں کمی سے اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ماحول کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
نیپالی حکومت نے گذشتہ برس ہی ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والے تمام کوہ پیماؤں اور ان کے مددگار عملے کے لیے پہاڑ سے اترتے ہوئے آٹھ کلو کوڑا کرکٹ ساتھ لانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 29029 فٹ یا 8848 میٹر ہے اور ہر سال یہاں کوہ پیمائی کی 30 مہمات جاتی ہیں۔ان مشنز سے حاصل ہونے والی فیس نیپال میں سیاحت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا اہم حصہ ہے۔اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم ایک لاکھ ڈالر مجموعی خرچ آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…