بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کو اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات کی پیش کش

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

پیانگ یانگ۔۔۔۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔یہ پیش کش صدر کم نے نئے سال کے موقعے پر ٹیلی ویڑن پر نشر ہونے والی تقریر میں کی۔انھوں نے کہا کہ اگر پیانگ یانگ کی شرائط مان لی جائیں تو جنوبی کوریا کی صدر پارک گون ہائے سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔پیر کے روز جنوبی کوریا نے متعدد معاملات پر شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی، جن میں کوریائی جنگ میں جدا ہونے والے خاندانوں کے افراد کا ملاپ شامل ہے۔
صدر کم نے کہا: ’ماحول اور حالات کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘تاہم سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم کہتے ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ملاقات کس حد تک ممکن ہے کیوں کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی فوجوں میں سخت کشیدگی رہی ہے۔ماحول اور حالات کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔پیر کو جنوبی کوریا کے الحاق کے وزیر ریو کہل جائے نے کہا تھا: ’شمالی اور جنوبی کوریاؤں کو آمنے سامنے بیٹھ کر پرامن الحاق کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔‘شمالی کوریا اس سے قبل جنوبی کوریا کی جانب سے پیش کیے جانے والے وحدت کے منصوبے کو شمالی کوریا کو ہڑپ لینے کے منصوبے کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔ریو نے امید ظاہر کی تھی کہ شمالی کوریا ان تجاویز کا ’مثبت جواب دے گا۔‘انھوں نے کہا کہ وہ سیول، پیونگ یانگ یا پھر شمالی یا جنوبی کوریا کے کسی بھی شہر میں بات کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں شمالی کوریا کے اہلکار بات کرنا چاہیں۔
اس سے قبل اس ضمن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات رواں سال فروری میں ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بعض کوریائی خاندان کا ملن ہوا تھا۔اس طرح کی مزید بات چیت اکتوبر میں ہونی تھی لیکن شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر یہ الزام لگاتے ہوئے اسے ختم کر دیا کہ جنوبی کوریا اپنے کارکنوں کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کر رہا ہے جو شمالی کوریا مخالف پرچے غباروں کے ذریعے شمالی کوریا میں بھیجتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ دونوں کوریا تکنیکی طور پر سنہ 53۔1950 کی کوریائی جنگ کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ البتہ ان کے درمیان باضابطہ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح ضرور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…