بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے انخلا نیٹو افواج کی شکست ہے ،طالبان

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

کابل۔۔۔۔ افغان طالبان نے افغانستان سے امریکا کی اتحادی نیٹو افواج کے انخلاء کو غیرملکی افواج کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں اس مشن نے ملک کو ‘خون کے تالاب’ میں غرق کر دیا ہے۔طالبان کی جانب سے یہ بیان نیٹو افواج کی ایک انتہائی معمولی تقریب میں جنگی مشن کے خاتمے کے اعلان کے اگلے روز جاری گیا۔ سیکیورٹی صورتحال کے باعث نیٹو مشن کے خاتمے کی تقریب انتہائی خاموشی سے منعقد کی گئی تھی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان نے غیرملکی فوج کے اس مشن کو ‘ظلم و بربریت کی آگ’ قراردیا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اس قدم کو ان کی شکست اور مایوسی کا واضح اشارہ سمجھتے ہیں۔ ‘امریکا کو اپنی اس یک طرفہ جنگ میں اتحادیوں اور عالمی تنظیموں سمیت واضح شکست سے دوچار کیا گیا ہے۔’افغانستان پر 1996 سے 2001 کے دوران حکومت کرنے والے طالبان گزشتہ 13 برس سے نیٹو اور افغان فورسز کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، جس کے باعث پورے ملک میں تشدد کی فضا پروان چڑھ چکی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس عام شہریوں کی ہلاکت کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے اور تقریباً 10 ہزار افراد قتل یا زخمی ہوئے۔
یکم جنوری 2015 میں نیٹو کی انٹرنیشل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کو ٹریننگ اینڈ سپورٹ مشن سے تبدیل کردیا جائے گا، جس کے تحت ساڑھے بارہ ہزار نیٹو فوجی افغانستان میں قیام کریں گے۔طالبان کا کہنا ہے کہ ‘وہ ملک میں خالص اسلامی نظام کے نفاذ اور غیر مشروط طور پر بقیہ حملہ آور افواج کے خاتمے تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے’۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فوجی یونیفارم میں ایک بھی غیر ملکی افغانستان میں موجود رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…