بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی فلم 'دی انٹرویو' نے کھلبلی مچادی۔شمالی کوریا امریکہ پر برس پڑا! آخر اس فلم میں کیا ہے؟

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

شمالی کوریا نے اپنے رہنما کم جون ان کے قتل کے افسانوی پلاٹ پر مبنی ہولی وڈ فلم دی انٹرویو کی ریلیز پر امریکی صدر باراک اوباما کی مذمت کی ہے۔

شمالی کوریا کی قومی دفاعی کمیشن (این ڈی سی) نے امریکا پر ملکی انٹرنیٹ مفلوج کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی صدر کو “عاقبت نااندیش” قرار دیا ہے۔

یہ متنازع فلم کچھ امریکی سینماﺅں اور آن لائن ریلیز کی گئی جبکہ سینکڑوں سینماﺅں نے بھی آگے بڑھ کر اسے پردہ اسکرین پر دکھانے کی پیشکش کی تاہم بڑی تعداد ایسے سینماﺅں کی تھی جنھوں نے اسے اپنی اسکرین پر نہ دکھانے کا فیصلہ کیا۔

اس فلم میں شمالی کورین صدر کو ایک بے رحم اور مسخرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کم جونگ ان کو اس فلم سے جن مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ یو ایس بی کے ذریعے شمالی کوریا اسمگل ہوگئی تو یہ عوامی رائے پر کافی اثر انداز ہوسکتی ہے۔

شمالی کورین کمیشن کے جاری کردہ بیان میں اس فلم کی ریلیز پر امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ان کے سپریم لیڈر کے وقار کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر مرکزی ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے سونی پکچرز کو اس فلم کی ریلیز کے لیے مجبور کیا گیا اور وہ ہمیشہ ہی ایسے اقدامات کرتے ہیں جیسے بندر کسی برساتی جنگلات میں حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ کوئی بھی فلم سینما گھروں اور آن لائن پر ایک ساتھ دکھائی جا رہی ہے۔

سونی پکچرز نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے بارے میں بنائی جانے والی اس مزاحیہ فلم کو سائبر حملے کے بعد ملنے والی دھمکیوں کے پیش نظر ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکہ نے ان حملوں کا الزام شمالی کوریا پر عائد کیا تھا جس کی شمالی کوریا نے تردید کی تھی۔

سونی پکچرز نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کامیڈی فلم کو کرسمس کے دن ریلیز کیا۔

امریکی صدر سمیت ناقدین کی بڑی تعداد نے انتباہ کیا تھا کہ اگر فلم پر پابندی لگائی گئی تو اظہار رائے کی آزادی خطرے کی زد میں آجائے گی۔

سونی پکچرز پر کامیاب حملہ کرنے والے ہیکروں کے گروپ نے دھمکی دی تھی جو سینما گھر بھی اس فلم کی نمائش کریں گے انھیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…