جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شمالی کوریا نے دا انٹرویو‘ فلم کو کم جونگ کے قتل کا منصوبہ قرار دیدیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2014 |

پیانگ یانگ۔۔۔۔شمالی کوریا نے ’دا انٹرویو‘ فلم کی ریلیز کے لیے امریکی صدر براک اوباما کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے۔سونی پکچرز کی یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کے پلاٹ پر مبنی ہے۔ملک کے قومی دفاعی کمیشن (این ڈی سی) نے امریکہ پر ملک کا انٹرنیٹ بند کرنے کا بھی الزام لگایا ہے اور صدر اوباما کے لیے ایک نسلی گالی کا استعمال کرتے ہوئے انھیں ’لا پروا‘ بتایا ہے۔
واضح رہے کہ سونی پکچرز نے ایک سائبر حملے کے بعد اس فلم کی ریلیز روک دی تھی، لیکن پھر اس نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے کرسمس کے موقعے پر جمعرات کو منتخب سینیما ہالوں کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی ریلیز کیا۔ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلم کسی طرح سمگل ہو کر شمالی کوریا پہنچ گئی تو یہ بہت طاقتور ثابت ہو گی۔صدر اوباما کے ساتھ ساتھ بہت سے ناقدین کا خیال تھا کہ اگر فلم کی رونمائی نہ ہوئی تو یہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے خطرہ ہوگا۔اس فلم کا بڑے پیمانے پر تجزیہ کیا گیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر ’مزاحیہ اور زیرک‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس فلم میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ’خطرناک مغرور مسخرے‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلم کسی طرح سمگل ہو کر شمالی کوریا پہنچ گئی تو یہ بہت طاقتور ثابت ہو گی۔سنیچر کو ایک بیان میں این ڈی سی کے ترجمان نے فلم کی ریلیز کے لیے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس غیر ایماندار اور رجعت پسند فلم کے ذریعے ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے رہنما توہین کی گئی ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی کو ہوا دینا ہے۔‘
اس فلم میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ’خطرناک مغرور مسخرے‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے
بیان میں کہا گیا کہ صدر اوباما اس کے فعل کے اہم مرتکب ہیں جنھوں نے امریکہ میں سینیما کو بلیک میل کرتے ہوئے سونی پکچرز کو فلم کی ریلیز کے لیے مجبور کیا۔بیان میں مزید کہا گیا: ’اوباما ہیمشہ اپنے الفاظ کے استعمال میں غیر محتاط رہے ہیں اور استوائی جنگل کے بندروں کی طرح حرکتیں کرتے رہے ہیں۔‘
این ڈی سی نے سونی پکچرز کی ہیکنگ کے معاملے پر ’شمالی کوریا پر بے بنیاد الزام لگانے‘ کے لیے واشنگٹن پر کڑی تنقید کی۔واضح رہے کہ اس فلم کو کرسمس کے موقعے پر ہی ریلیز کیا جانا تھا اور ہیکروں نے اس کی ریلیز کے خلاف دھمکی دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…