جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کی دھمکیوں کے بعد افغانستان کی خواتین قومی کرکٹ ٹیم تحلیل

datetime 25  دسمبر‬‮  2014 |

کابل۔۔۔۔ افغانستان میں طالبان کی دھمکیوں کے بعد خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کو تحلیل کر دیا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں 2010ء4 میں خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کی بنیاد رکھی گئی تھی تاہم رواں سال غیر محسوس طریقے سے اسے تحلیل کر دیا گیا جس کی وجہ طالبان کی طرف سے دھمکیاں بتائی جاتی ہیں جب کہ افغان کرکٹ بورڈ کے نو منتخب چیئرمین نسیم اللہ دانش کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم موجود نہیں ہے اور ملک میں صورتحال ایسی نہیں ہے کہ یہاں خواتین کی کرکٹ ٹیم بنائی جائے۔چیئرمین افغان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ طالبان نے مجھے فون کر کے کہا ہے کہ خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم نہ بنائی جائے کیوں کہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ افغانستان کا کلچر بھی نہیں، اگر ایسا کیا گیا تو وہ کھلاڑیوں کو پہنچنے والے کسی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔دوسری جانب پاکستان میں بطور مہاجر پناہ گزین کرکٹ سیکھنے والی افغانستان میں خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کی بانی ڈیانا بارکزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ خواتین کی کرکٹ کی حمایت نہیں کرتا جب کہ ان کے پاس ملک بھر کی 3700 ایسی لڑکیاں ہیں جو کرکٹ کھیلتی ہیں تاہم امید ہے کہ کرکٹ بورڈ کا رویہ تبدیل ہو جائے گا۔ انہوں نے رواں سال اپریل میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، وہ کرکٹ بورڈ میں افغان خواتین کرکٹ کی نگران کے طور پر ذمے داریاں سر انجام دے رہی تھیں۔
واضح رہے کہ انٹرنیشل کرکٹ کونسل کا مکمل رکن بننے کے لیے افغانستان کو 2025ء4 تک خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم تشکیل دینا ہو گی کیونکہ آئی سی سی کا مکمل رکن بننے کے لیے یہ ایک اہم شرط ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…