جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عوام پر بجلی اور گیس بم گرانے کا فیصلہ، اس سے ہوگا کیا؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 24  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد: آئی ایم ایف  نے قرضے کی اگلی قسط کے حصول کیلیے پاکستان  پر بجلی اورگیس قیمتیں بڑھانے سمیت 5 نئی شرائط عائد کردیں جبکہ حکومت نے جنوری 2015 سے عوام پر بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا بم گرانے کا فیصلہ کرلیا۔

جس سے عالمی سطح پر تیل کی انتہائی گرتی ہوئی قیمتوں کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں 5.4 فیصد جبکہ گیس کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوگا۔ آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے گزشتہ مہینے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوری 2015 سے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی جائینگی۔ یہ یقین دہانی حکومت کے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کے تحت کرائی گئی جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر سٹیٹ بنک اشرف وتھرا کے دستخط ہیں۔ آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق اگلے ماہ بجلی کی قیمت میں 5.34 فیصد کے حساب سے 61 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا اور یہ سرچارج کی مد میں ہوگا۔

اس مد میں حکومت کو 58ا رب روپے کی آمدنی ہوگی۔ فروری میں بھی صارفین پر سرچارج بڑھایا جائے گا تا کہ سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کی جا سکے۔ حکومت نے گیس کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہوئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق یکم جنوری سے گیس صارفین کیلئے نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ صارفین سے 78ارب وصول کرنے کیلئے گیس 30 فیصد مہنگی کی جائیگی ۔

حکومت کو مجموعی طور پر 145 ارب کی اضافی آمدنی ہوگی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کیلیے ڈیڈ لائن میں ایک سال کی توسیع کردی ہے اور اب دسمبر 2014 کی بجائے دسمبر 2015 تک نجکاری کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور رعایت دینے کیلیے ایف بی آرکے ایس آر او جاری کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ اکتوبر 2015 تک آئیسکواور لیسکو جبکہ اگست 2015 تک فیسکوکی نجکاری کرنا ہوگی۔ ٹیکس ڈیفالٹرز پر وہی قانون لاگو کرنے کا کہا گیا ہے جو منی لانڈرنگ کے جرائم میں ملوث عناصر پر لاگو کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…