جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روس سے مارچ سے قبل ایل این جی کی سپلائی شروع ہو نے کا امکان

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ پاکستان اورروس نے کراچی سے لاہور تک ایل این جی پائپ لائن بچھانے کے ایک ارب 70کروڑڈالر کے منصوبے پر دستخط کردیے ہیں۔امکان ہے کہ اگلے سال مارچ سے قبل ایل این جی کی سپلائی شروع ہوجائے گی۔پاکستان اورروس کے مابین کئی دہائیوں بعددفاعی شعبے میں معاہدہ کے بعد یہ پہلا توانائی منصوبہ ہے۔اس توانائی معاہدہ پرروسی وزیر دفاع کے دورہ کے موقع پردستخط ہوئے۔جنرل ضیا کیاقتدارمیں ا?نے سے پہلے روس نے کراچی میں اسٹیل ملز لگانے میں مددکی اورا?ئل اینڈگیس ڈویلپمنٹ کمپنی کے ساتھ بھی تعاون کیا۔یہ کمپنی تیل وگیس کی تلاش کیلئے ابھی تک روس سے ملنے والے ا?لات استعمال کررہی ہے۔پاکستان اس وقت ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے متبادل کے طور پر دوایل این جی پائپ لائن منصوبوں پرکام کررہاہے ،ان منصوبوں میں ایل این جی گوادر پائپ لائن اورکراچی سے لاہور ساؤتھ پائپ لائن شامل ہے۔حکومت نے گوادرایل این جی پائپ لائن اورٹرمینل کے قیام کیلئے چین کے ساتھ تین ارب ڈالر کے معاہدے پربھی دستخط کئے ہیں۔قبل ازیں پاکستان نے روس اورچین کو ایران پاکستان گیس پائپ لائن بچھانے کی پیشکش کی تھی لیکن ایران پرپابندیوں کے باعث دونوں ملک پیچھے ہٹ گئے۔ذرائع نے بتایاروسی وزیردفاع کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پرپاک روس مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں ماسکو کو ایک ارب 70کروڑ ڈالر مالیت کی کراچی تا لاہور ایل این جی پائپ لائن بچھانے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اچھی پیشرفت ہوئی۔سرکاری حکام نے بتایاکہ ایل این جی ٹرمینل پرکام جاری ہے اوراگلے سال مارچ تک ایل این جی کی فراہمی شروع ہوجانے کاامکان ہے۔تیل وگیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا نے ایس این جی پی ایل اورایس ایس جی سی کومذکورہ پائپ لائن کیلئے صارفین سے اضافی فنڈزلینے کی اجازت دیدی ہے۔ایل این جی منصوبہ کیلئے ایس این جی پی ایل 75 کروڑ ڈالر جبکہ ایس ایس جی سی 30 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کامنصوبہ بنایاہے۔حکومت ساؤتھ ایل این جی پائپ لائن کی تعمیر کاٹھیکہ حکومتی سطح پر روس کودیناچاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…