منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

تجارتی مقاصد کے حصول تک تیل کی قیمتیں کم ہی رہیں گی

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

ویانا۔۔۔۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کافی دنوں سیگر رہی تھی اور تیل 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا۔ مگر پیر کی صبح قیمتوں میں کچھ اضافے سے منڈی میں اعتماد بڑھا ہے اور اب خیال کیا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں مزید کمی نہیں ہوگی۔آخر قیمتوں میں مزید کمی کیوں نہیں ہوسکتی؟کیونکہ قیمتیں کم کر نے کے پیچھے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے تجارتی مقاصد تھے سیاسی نہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ عملی تجارتی مقصد حاصل کرنے تک ہی قیمت نیچے رکھیں گے اور قیمتوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف طویل مدتی جنگ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔انھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب قیمتیں کم ہوں۔ سعودی عرب کا خیال ہے کہ دیگر ممالک میں تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری کی وجہ سے منڈی میں اس کی حیثیت کمزور ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی مانگ کے باوجود سعودی عرب نے اپنی پیداوار میں کمی نہیں کی جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا مقصد عالمی پیداوار سے دس لاکھ بیرل یومیہ تیل کو ختم کرنا تھا جس کو وہ اضافی اور مہنگی پیداوار تصور کرتا ہے۔اس ’مہنگی‘ پیداوار کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے منافع میں کمی آئی ہے۔تیل کی قیمت میں کمی 2014 کا بڑا اقتصادی جھٹکا رہا ہے تیل کی قیمت میں کمی 2014 کا بڑا اقتصادی جھٹکا رہا ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔قیمتوں میں کمی کی وجہ سے روس کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور وہ مجبوراً چین کی مالی امداد لینے پر انحصار کر رہا ہے۔کیوبا بھی امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ کیوبا کو علم ہے کہ وہ وینزویلا کی مالی امداد پر اب زیادہ دیر تک انحصار نہیں کر سکتا کیونکہ وینزویلا کی اپنی معیشت تیل سے وابستہ ہے۔
تیل کی قیمت میں کمی سے یورپ سمیت دنیا بھر میں صارفین کو تو فائدہ ہو رہا ہے مگر یہ اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے کہ جو پیسہ لوگ بچا رہے ہیں وہ اسے کہیں اور خرچ کریں گے یا نہیں۔
نئے سال کے ابتدائی ہفتوں میں دنیا بھر کے مرکزی بینکرز کے لیے بحث کا سب سے بڑا موضوع یہ ہوگا کہ تیل کی قیمت میں کمی سے دنیا کی معیشت کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…