جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تجارتی مقاصد کے حصول تک تیل کی قیمتیں کم ہی رہیں گی

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

ویانا۔۔۔۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کافی دنوں سیگر رہی تھی اور تیل 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا۔ مگر پیر کی صبح قیمتوں میں کچھ اضافے سے منڈی میں اعتماد بڑھا ہے اور اب خیال کیا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں مزید کمی نہیں ہوگی۔آخر قیمتوں میں مزید کمی کیوں نہیں ہوسکتی؟کیونکہ قیمتیں کم کر نے کے پیچھے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے تجارتی مقاصد تھے سیاسی نہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ عملی تجارتی مقصد حاصل کرنے تک ہی قیمت نیچے رکھیں گے اور قیمتوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف طویل مدتی جنگ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔انھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب قیمتیں کم ہوں۔ سعودی عرب کا خیال ہے کہ دیگر ممالک میں تیل کی پیداوار میں سرمایہ کاری کی وجہ سے منڈی میں اس کی حیثیت کمزور ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی مانگ کے باوجود سعودی عرب نے اپنی پیداوار میں کمی نہیں کی جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا مقصد عالمی پیداوار سے دس لاکھ بیرل یومیہ تیل کو ختم کرنا تھا جس کو وہ اضافی اور مہنگی پیداوار تصور کرتا ہے۔اس ’مہنگی‘ پیداوار کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے منافع میں کمی آئی ہے۔تیل کی قیمت میں کمی 2014 کا بڑا اقتصادی جھٹکا رہا ہے تیل کی قیمت میں کمی 2014 کا بڑا اقتصادی جھٹکا رہا ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔قیمتوں میں کمی کی وجہ سے روس کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور وہ مجبوراً چین کی مالی امداد لینے پر انحصار کر رہا ہے۔کیوبا بھی امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ کیوبا کو علم ہے کہ وہ وینزویلا کی مالی امداد پر اب زیادہ دیر تک انحصار نہیں کر سکتا کیونکہ وینزویلا کی اپنی معیشت تیل سے وابستہ ہے۔
تیل کی قیمت میں کمی سے یورپ سمیت دنیا بھر میں صارفین کو تو فائدہ ہو رہا ہے مگر یہ اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے کہ جو پیسہ لوگ بچا رہے ہیں وہ اسے کہیں اور خرچ کریں گے یا نہیں۔
نئے سال کے ابتدائی ہفتوں میں دنیا بھر کے مرکزی بینکرز کے لیے بحث کا سب سے بڑا موضوع یہ ہوگا کہ تیل کی قیمت میں کمی سے دنیا کی معیشت کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…