بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سعودی عرب میں غیر ملکی ماؤں کو رہنے کا حق مل گیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

ریاض۔۔۔۔سعودی عرب میں بچوں کی غیر ملکی ماؤں کے اس حق کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ کسی سعودی کفیل کے بغیر سعودی عرب میں مقیم رہ سکیں گی۔ سعودی میڈیا کے مطابق یہ حق انہیں اس سے قطع نظر دے دیا گیا ہے کہ وہ ان دنوں کسی سعودی شہری کے نکاح میں ہیں یا بیوہ اور مطلقہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ نے اس سلسلے میں درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ سعودی بچوں کی مائیں اس اعلان کی گئی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے رجوع کر سکیں اور سعودیہ میں رہائش کے حق سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان نے بتایا سعودی عرب میں رہائش اختیار کرنے کے لئے ان خواتین کے لئے یہ شرط بھی عائد نہیں ہوگی کہ وہ کسی سعودی شہری کے ہاں یا کسی سعودی ادارے میں کام کرتی ہوں اور کوئی ان کا کفیل ہو۔ ترجمان کے مطابق ایسی درخواستوں پر پانچ سال کے لئے اقامہ جاری کیا جائے گا اور اس کی کوئی فیس نہیں ہو گی تاہم ان غیر ملکی ماؤں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی سعودی شہریوں سے شادی قانوی طور پر ہوئی تھی اور ان کے سعودی بچوں کا ریکارڈ سعودی ریکارڈ میں مکمل حالت میں موجود ہے۔ واضح رہے سعودی کابینہ نے ایسی خواتین کے لئے مستقل اقامے کی منظوری دے رکھی ہے۔ کابینہ کے اس فیصلے کے مطابق سعودی بچوں کی ان ماؤں کو سعودی نجی و سرکاری اداروں میں ملازمت کا حق حاصل ہوگا اور سعودی تعلیمی اداروں میں تعلیم بھی حاصل کر سکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…