جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

کسی بھی وقت الیکشن کا اعلان ہو سکتا ہے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2014 |

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ دھوبی گھاٹ کا جلسہ کاروان انقلاب کی کنجی ہے۔

انقلاب میری منزل ہے جو معروف انقلابی طریقے سے آئے یا سیاسی جدوجہد کے ذریعے، انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے کیونکہ کسی بھی وقت انتخابات کا اعلان ہو سکتا ہے، الیکشن سے پہلے احتساب اور انتخابی اصلاحات کرائیں گے، انتخابی اتحاد الیکشن کے قریب جا کر کریں گے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، قاتلوں سے بدلہ لیں گے جس کیلیے اللہ حالات پیدا کر دے گا، دوسروں کے جلسے میں جا کر مخالفانہ نعرے لگوانا مجھے پسند نہیں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے پیسے نہیں لیں گے کیونکہ پیسوں سے جماعتیں بک جاتی ہیں، جماعت کو وڈیروں اور سرمایہ داروں سے بچانے کیلیے عوام سے نوٹ مانگے ہیں۔

اپنے احتساب کیلیے فنڈ والا اکاؤنٹ اوپن رکھوں گا، عوامی تحریک پر کسی خاندان اور ایک لیڈر کا قبضہ نہیں ہو گا بلکہ کارکنان جس کو چاہیں اس کو لیڈر بنا لیں، 19 اکتوبر کو لاہور کے جلسے میں دھرنے کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، وہ گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، طاہر القادری نے کہا کہ انقلاب فاسق اور اسٹیٹس کو نظام کو بدل کر کروڑوں عوام کو ان کے حقوق دلانے ہیں، اب ملک بھر میں ضلع کی سطح پر جلسے کیے جائیں گے۔

19اکتوبر کو لاہور کے بعد 23نومبر کو بھکر، 30 نومبر کو سرگودھا، 7دسمبر کو میانوالی اور 14دسمبر کو لیہ میں بھی جلسے ہوں گے، اس کے بعد سندھ، خیبر پختونخوا، کوئٹہ، گلگت، بلتستان میں جلسے کیے جائیں گے، لاہور کے جلسے میں انرجی بحران کے خاتمے کا لائحہ عمل دوں گا، طاہر القادری نے گو نواز گو کے حوالے سے کہا کہ اگر سکولوں میں بچے اور سیلاب متاثرین گو نواز گو کے نعرے لگائیں تو یہ عوام کے دل کی آواز ہے، اسے برداشت کیا جائے، پہلی بار کرکٹ میچ ہارنے پر گو مصباح گو اور گو آفریدی گو کے نعرے لگے، یہ شعور ہم نے عوام کو دیا ہے، آج سے جھنگ، چنیوٹ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا 3 روزہ دورے کروں گا، ان کے غم میں شریک ہوں گا۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…