اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گیس کی لوڈشیڈنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پانی سے چلنے والا جدید چولہا متعارف کرا دیا گیا ہے،
جو ہائیڈروجن کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک نئی ایجاد سامنے آئی ہے، جس کے تحت اب کھانا پکانے کے لیے روایتی گیس یا مہنگے ایندھن کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ ‘گرین وائز’ نامی کمپنی نے ایک ایسا چولہا تیار کیا ہے جو پانی کو ہائیڈروجن میں تبدیل کر کے اسی وقت اسے جلانے کے قابل بنا دیتا ہے۔اس نظام میں پی ای ایم الیکٹرولائزر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتی ہے۔ پیدا ہونے والی ہائیڈروجن کو فوری طور پر بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔اس چولہے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ استعمال کے دوران یہ آکسیجن خارج کرتا ہے، جس سے باورچی خانے کی فضا بہتر ہوتی ہے، جبکہ دھوئیں کے بجائے صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں، جو ماحول دوست ہیں۔کمپنی کے شریک بانی سنجیو چوہدری کے مطابق یہ نظام نہایت کم خرچ ہے، کیونکہ اسے چلانے کے لیے صرف 100 ملی لیٹر صاف پانی اور تقریباً ایک یونٹ بجلی درکار ہوتی ہے، جس سے چولہا تقریباً 6 گھنٹے تک کام کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اسے سولر پینلز کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکتا ہے، جو ان علاقوں کے لیے فائدہ مند ہے جہاں گیس یا بجلی کی فراہمی متاثر رہتی ہے۔یہ جدید چولہا گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور کمیونٹی کچنز کے لیے بھی موزوں بنایا گیا ہے۔ ایک برنر والے ماڈل کی قیمت تقریباً 1,128 ڈالر جبکہ دو برنر والے ماڈل کی قیمت 1,610 ڈالر رکھی گئی ہے (ٹیکس کے علاوہ)۔ماہرین کے مطابق یہ نظام انڈکشن چولہوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے کیونکہ یہ بجلی کو براہِ راست ایندھن میں تبدیل کرتا ہے، جس سے توانائی کا ضیاع کم ہوتا ہے۔فی الحال یہ ٹیکنالوجی بھارت میں دستیاب ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرائی جائے گی۔



















































