اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری

datetime 17  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق اہم اطلاعات سامنے آئی ہیں،

جن کے مطابق آئندہ ڈھائی سالہ حکومتی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ میں نمایاں تبدیلیوں پر غور جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت متعدد اہم وزارتوں کے قلمدان تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ زیرِ غور تجاویز میں وزارت خزانہ، داخلہ، دفاع اور بحری امور سمیت کئی اہم شعبے شامل ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، جبکہ وہ بیک وقت اپنا موجودہ منصب بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو وزارت خارجہ کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ اپنے پاس رکھیں گے۔

وزارت داخلہ کے لیے رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ کے نام زیر غور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رانا ثناء اللہ کو موجودہ مشیر کے عہدے سے ترقی دے کر وفاقی وزیر بنایا جا سکتا ہے۔

حکومت کابینہ کے حجم میں کمی لانے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کو ضم کر کے ان کی تعداد 32 تک محدود کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ انتظامی اخراجات کم ہوں اور حکومتی امور زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت وزارت بحری امور اور وزارت دفاعی پیداوار کو وزارت دفاع میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح وزارت ثقافت کو وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ ضم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں انسداد منشیات اور ڈاک کے محکموں کو بالترتیب وزارت داخلہ اور وزارت مواصلات کے ماتحت لانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور جو ارکان توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے سکے، ان کی جگہ نئے افراد کو موقع دیے جانے کا امکان موجود ہے۔

کابینہ میں ممکنہ طور پر چند نئے چہرے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ زیر غور ناموں میں ایک خاتون رہنما کے علاوہ بشریٰ بٹ، سینیٹر منظور کاکڑ، بیرسٹر دانیال اور بابر نواز شامل بتائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں کا بنیادی مقصد حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا، انتظامی نظام کو مؤثر بنانا اور آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت، بشمول نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…