جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حیران کن کمی

datetime 17  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور فریم ورک معاہدے کی پیش رفت نے عالمی تیل مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں،

جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی سپلائی بحال ہونے کی امید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی تقویت دی ہے۔عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے اگست کے معاہدوں کی قیمت بدھ کے روز تقریباً ایک فیصد مزید کم ہو گئی۔ اس طرح گزشتہ دو دنوں کے دوران مجموعی طور پر تقریباً پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 78.24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو تنازع کے آغاز کے بعد مارچ کے ابتدائی دنوں کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں میں اطمینان پیدا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے منڈی میں قیمتوں کا تعین اس امید پر کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔لندن میں قائم پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے ماہر ٹامس ورگا کے مطابق گزشتہ چار کاروباری سیشنز کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 17 ڈالر فی بیرل کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ سپلائی میں بڑے خلل کے خدشات کو کم سمجھنے لگی ہے۔تاہم بعض ماہرین اس رجحان کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ سنگاپور کی تجزیاتی فرم وانڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری کے مطابق موجودہ قیمتوں میں کمی زیادہ تر امیدوں اور توقعات پر مبنی ہے، جبکہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور عملی نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت بہترین ممکنہ صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلے کر رہے ہیں،

جس میں آبنائے ہرمز کا مکمل کھلنا اور تیل کی سپلائی کا معمول پر آ جانا شامل ہے، لیکن ممکنہ رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں میں نرمی جبکہ امریکا کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیوں اور رکاوٹوں میں کمی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے سے عالمی توانائی منڈی کو استحکام ملے گا، لیکن سمندری تجارت اور تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ اندازوں کے مطابق خلیجی راستوں سے گزرنے کے لیے 500 سے زائد بحری جہاز مختلف مقامات پر انتظار کر رہے ہیں، جبکہ سمندری گزرگاہوں کو محفوظ بنانے اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے مراحل بھی ابھی باقی ہیں۔بین الاقوامی ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن کاٹن کے مطابق جنیوا میں متوقع معاہدے پر دستخط بحالی کے عمل کا پہلا قدم ہوں گے، تاہم جہازوں کی روانگی، عملے کی تبدیلی اور دیگر لاجسٹک معاملات کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے یا حتیٰ کہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…