اسلام آباد( این این آئی)وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے جو موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی، 30ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کو سبسڈی دی جائے گی۔حکام کے مطابق سبسڈی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کر دی، کفایت شعاری پالیسی کیتحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائے گی جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے کی کشیدگی کے بعد سپلائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا کہ ڈیزل کی عالمی قیمت 88ڈالر سے بڑھ کر 187ڈالر اور پیٹرول 130ڈالر فی بیرل ہوچکی ہے ، موجودہ ذخائر کا استعمال بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم سپلائی متاثرہوئی ہے، 70فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطی سےآتی ہیں،جہازوں کی آمدورفت بندہے۔ عرب ممالک سے تیل 4سے 5دنوں میں مل جاتا ہے۔
کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ ذخائرکا استعمال بڑھا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اب یورو5معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پیٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے، خام تیل کے ذخائر11دنوں کے لئے ہیں ، ڈیزل کے ذخائر 21اورپیٹرول ذخائر 27دنوں کیلئے کافی ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی کے9دن کے ذخائر اور جیٹ فیول ذخائر 14دن کیلئے موجود ہیں، ہفتہ واربنیادوں پر پیٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، روس سے بھی تیل کی خریداری کی کوشش کر رہے ہیں۔



















































