لاہور (نیوز ڈیسک): پنجاب حکومت طلبہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اس پروگرام کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، جن کی منظوری کے بعد لیپ ٹاپس کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس وقت دو اہم ماڈلز زیر غور ہیں۔ پہلی تجویز کے تحت اسکیم کے حجم میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس سے منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 40 ارب روپے تک پہنچ جائے گی اور اس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا سکیں گے۔دوسری تجویز میں اس پروگرام کو دوگنا کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو اس پر تقریباً 54 ارب روپے خرچ ہوں گے اور دو لاکھ 20 ہزار سے زائد طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکام کے مطابق اب تک ایک لاکھ 43 ہزار سے زیادہ طلبہ اس اسکیم کے لیے درخواستیں جمع کرا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 35 ہزار طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم بھی کیے جا چکے ہیں۔اس وقت اس پروگرام کی مجموعی لاگت 27 ارب روپے ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔دوسری جانب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسکیم کے دوسرے مرحلے کے لیے درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ اب طلبہ 20 مارچ تک اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے درخواستیں صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی قبول کی جائیں گی۔


















































