واشنگٹن(این این آئی)امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اوسط قیمت 3.25ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ تقریباً 11ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قیمت ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 27سینٹ زیادہ ہے جس کی وجہ ایران جنگ اور مشرقِ وسطی میں بڑھتی کشیدگی ہے۔امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ ایران جنگ کے بعد سے عالمی تیل کی منڈی شدید بے یقینی کا شکار ہے۔حالیہ دنوں میں امریکی اوسط پیٹرول قیمت میں ایک ہی دن میں11سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا جو چار برس میں سب سے بڑا روزانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اگر مشرق وسطی میں کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں 3.25سے 3.50ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تیزی اس لیے بھی آئی ہے کیونکہ عالمی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں خصوصاً اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کا اثر فوری طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔


















































