پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

عوام پر بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کے باوجود ٹیکس ہدف حاصل نہ ہوا

datetime 1  جولائی  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے باوجود حکومت 129 کھرب روپے سے زائد ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی، مجموعی طور پر محصولات میں گزشتہ سال کی نسبت 26 فیصد یا24.3 کھرب روپے زائد اضافہ ہوا۔میڈیارپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ محمد اورنگ زیب نے بغیر منی بجٹ129کھرب سے زائد وصولیاں یقینی بنانے کا عندیہ دیا تھا۔مبصرین کے مطابق منی بجٹ کے بغیر محصولات کے ہدف کا حصول ممکن نہیں تھا۔

عبوری اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے ختم ہونیوالے مالی سال میں117.3 کھرب روپے کی وصولیاں کی، جو ہدف سے تقریباً 12 کھرب روپے کم ہیں۔حکومت نے مالی سال2024-25کے دوران ٹیکس جی ڈی پی تناسب10.6 فیصد تک بڑھانے کا ا?ئی ایم ایف سے وعدہ کیا، جوکہ 10.2 فیصد رہا۔ ٹیکس حکام کے مطابق بجٹ میں13 کھرب کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کے باوجود وصولیاں ہدف سے12 کھرب روپے کم رہیں۔اس ناکامی نے سابق چیئر مین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ کی پیش گوئی درست ثابت کی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود وصولیاں118 کھرب سے بڑھ نہیں سکتیں۔حکومت نے 129.7 کھرب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے تنخواہ دار طبقے پر اضافی بوجھ، پیکٹ دودھ سمیت لگ بھگ تمام اشیائے ضرورت پر ٹیکس لگایا، مگر غیر حقیقی ٹیکس ہدف، معاشی سست روی اور شرح مہنگائی میں مسلسل کمی محصولات میں26 فیصد اضافہ ممکن نہ بنایا جا سکا،تاجر دوست سکیم کے تحت دکان داروں سے50 ارب روپے انکم ٹیکس حاصل نہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…