پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی

datetime 17  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی، پالیسی کے تحت بجٹ اعزازیہ، آرڈینری اعزازیہ اورکارکردگی اعزازیہ دیاجائیگا۔پالیسی کے تحت بجٹ اعزازیہ وفاقی حکومت کی بجٹ سازی کی مشق میں شامل ملازمین کوملے گا، بجٹ اعزازیہ کیلئے وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت منصوبہ بندی، قومی اسمبلی، سینیٹ سیکریٹریٹ اور وزیرِ اعظم آفس کے ملازمین حقدارہوں گے، ہرمالی سال کیلئے اعزازیہ کی تعداد اور کن وزارتوں یا دفاتر کو دیا جائیگا، یہ فیصلہ وزیرخزانہ کریں گے۔

پالیسی کے تحت پرنسپل اکائونٹنگ افسر کوآرڈینری اعزازیہ دینے کا اختیار حاصل ہو گا، آرڈینری اعزازیہ گریڈ ایک تا 22 کے تمام ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر دیا جاسکے گا۔کارکردگی اعزازیہ پر مالی سال کے دوران قابل قدر کارکردگی کی بنیاد پر دیاجائے گا، کارکردگی اعزازیہ مالی سال میں ایک بنیادی ماہانہ تنخواہ کے برابر دیا جاسکے گا لیکن یہ تعداد کل ملازمین کے 25 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔مذکورہ بالا 25 فیصد کے علاوہ دیگر اہل ملازمین کو کارکردگی اعزازیہ دیاجاسکیگا، کارکردگی اعزازیہ ایک مالی سال میں ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابرہوگا۔پالیسی کے تحت اعزازیہ کی تمام ادائیگیاں پے رول اسٹیٹمنٹس میں ظاہرکی جائیں گی، اعزازیہ کی ٹیکسیشن مو نیٹائزیشن الانس کی طرز پر ہوگی، کسی وزارت یا ڈویژن میں 6 ماہ سے کم مدت کیلئے تعینات ملازمین کو پرفارمنس اعزازیہ نہیں دیاجائیگا۔

وہ ملازمین جنہیں بجٹ اعزازیہ مل چکا یا ملنے کا امکان ہو، انہیں آرڈینری یا پرفارمنس آنریریم نہیں دیاجائے گا، بجٹ اعزازیے کی رقم اس کے پہلے سے دئیے گئے اعزازیہ میں ایڈجسٹ کی جائیگی،کوئی بھی ملازم ایک سے زائد اداروں سے اعزازیہ وصول نہیں کر سکے گا۔اس پالیسی میں بیان کردہ اعزازیہ کے علاوہ کوئی اور اعزازیہ نہیں دیا جائیگا-یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر اعزازیہ پالیسی کی منظوری دی،ای سی سی نے اس حوالے سے 2 جون 2025 کو فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…