پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کے لیے اچھی خبر، آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے پر آمادہ ہو گیا

datetime 4  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں نرمی پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے تجاویز پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اور انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کے اصولی فیصلے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کا امکان ہے، جبکہ انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 کے تحت اس میں ترمیم کی جائے گی تاکہ یہ رعایت ممکن ہو سکے۔اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے سالانہ غیر مشروط آمدن کی حد کو 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کرنے پر بھی اصولی اتفاق کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماہانہ 83 ہزار روپے تک کی آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہو سکتی ہے، جو اس وقت 50 ہزار روپے ماہانہ ہے۔نئی مجوزہ شرحوں کے مطابق:ماہانہ 1 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے گھٹ کر 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے۔1 لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر لاگو شرح 15 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کی جا سکتی ہے۔2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر موجودہ 25 فیصد شرح کو گھٹا کر 22.5 فیصد کیا جا سکتا ہے۔جبکہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تنخواہ پر ٹیکس 30 فیصد کے بجائے 27.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔اس سے زیادہ آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی بلند ترین شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 32.5 فیصد تک لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری بجٹ مذاکرات میں ایک اور بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جس میں عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی دفاعی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں اضافے کی اجازت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے موقف اپنایا کہ ملکی سلامتی سے متعلق اخراجات کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا، جس پر آئی ایم ایف نے رضامندی ظاہر کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…