منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی دعوئوں کے باوجود گراں فروشی عروج پر! اوپن مارکیٹ میں دکانداروں نے سرکاری نرخ نامے کی دھجیاں بکھیردیں

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)حکومت کے تمام تر دعوئوں کے باوجود گراں فروشی کا سلسلہ نہ رک سکا ، اوپن مارکیٹ میں دکانداروں نے سرکاری نرخ نامے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے من مانے نرخوں پر فروخت جاری رکھی ،سرکاری نرخ نامے میں ٹماٹر نے ایک ہی روز میں 20روپے اضافے سے ڈبل سنچری کر لی تاہم اوپن مارکیٹ میں دکاندار رسد میں کمی کی وجہ سے 250سے 270روپے فی کلو تک فروخت کرتے رہے،

برائلر گوشت اور فارمی انڈوں کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری نرخ نامے کے مطابق آلو کچا چھلکا 50روپے ،آلو شوگر فری 38کی بجائے 40،آلو سٹور 28کی بجائے 30سے35،پیاز 75کی بجائے 80سے 90روپے، ٹماثر 200روپے کی بجائے250روپے،لہسن دیسی 238کی بجائے260سے270،لہسن چائنہ 250کی بجائے290سے300،ادرک چائنہ سرکاری نرخ 320کی بجائے330سے400،بینگن32کی بجائے35سے40،کریلے54کی بجائے60،پالک فارمی 23کی بجائے25،ٹینڈے دیسی54کی بجائے60سے65،پالک دیسی 28کی بجائے30سے 35،لیموں چائنہ44کی بجائے50،میتھی42کی بجائے50روپے،لہسن ایرانی 212کی بجائے230سے240،بند گوبھی59کی بجائے70روپے،پھول گوبھی34کی بجائے40سے45،گھیا کدو34کی بجائے40،شلجم32کی بجائے40سے45،سبز مرچ150کی بجائے170سے180،اروی 63کی بجائے70،بھنڈی76کی بجائے80،مٹر 94کی بجائے100سے105،مولی16کی بجائے20روپے،گھیا توری70کی بجائے80،گاجر چائنہ42کی بجائے50،گاجر دیسی42کی بجائے45سے50،پھلیاں63کی بجائے70 اور مونگرے93کی بجائے 100روپے فی کلو تک فروخت ہوئے ۔علاوہ ازیں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت3روپے اضافے سے 207روپے،زندہ برائلر مرغی2روپے اضافے سے 143روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت2روپے اضافے سے 110روپے فی درجن رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…