جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پھانسی کے قیدی کیساتھ ’’پھندا ‘‘ لگنے سے پہلے ہی نیا حادثہ پیش آگیا، پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 20  دسمبر‬‮  2014 |

سکھر: سینٹرل جیل ون، سکھر میں سزائے موت کا ایک قیدی ہفتے کو دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا ۔

سکھر کی سینٹرل جیل ون میں سزائے موت کے قیدی نظام الدین ولد محمد خان کو آج صبح دل کا دورہ پڑا، جس کے باعث وہ ہلاک ہوگیا، تاہم لاش کے پوسٹ مارٹم کے ذریعے ہلاکت کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

نظام الدین کو قتل کے مقدمے میں چند سال قبل جیکب آباد کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی، جبکہ اس کی رحم کی درخواست سندھ ہائی کورٹ لا ڑکانہ بینچ میں زیرِ سماعت تھی۔

جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدی کی ہلا کت کی اطلاع اس کے ورثاء کو دے دی گئی اور تمام ضروری قانونی کارروائی کے بعد میت ورثاء کے حوالے کی جا ئے گی۔

دوسری جانب سکھر سینٹرل جیل میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور جیل کے داخلی اور خارجی راستوں پر فوج کے دستے تعینات ہیں۔

جبکہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری بھی جیل کے اطراف موجود ہے۔

نمائندے کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو خطرناک دہشت گردوں عطاء اللہ اورمحمد اعظم کو سکھر سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سانحہ پشاور کے بعد سزائے موت پر پابندی ہٹانے کے بعد خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان کوجمعے کی رات پھانسی دے دی گئی۔

ڈاکٹرعثمان پر 10 اکتوبر 2009 کو جی ایچ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹرز) پر حملے کی منصوبہ بندی اور قیادت، جبکہ ارشد مہربان پر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر حملے کا الزام تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…