اور چھ مارچ 1997ء کو اس کا پہلا ایڈیشن مارکیٹ میں آگیا‘ پہلے دن اس کی 25 ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں‘ ہفتے میں اس کی فروخت ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی اور ایک ماہ بعد یہ کتاب یورپ کی بیسٹ سیلر بن گئی‘ آج تک یہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں بک چکی ہے ‘ لوگ اس کی ہمت اور اپروچ پر حیران ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو پلک سے لکھی گئی اور لکھنے والوں نے یہ کتاب ایک ایک حرف جوڑ کر مکمل کی اور بوبی نے ثابت کر دیا اگر آپ کی ایک پلک سلامت ہو تو آپ اس سے بھی کمال کر سکتے ہیں‘‘
میں خاموش ہو گیا۔ وہ مسکرائے اور بولے ’’ لیکن تم نے بوبی کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا‘‘ میں نے عرض کیا ’’ یہ کتاب6 مارچ 1997ء کو مارکیٹ میں آئی ‘ بوبی کی بیوی نے بازار سے اس کی کاپی خریدی‘ بھاگتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی‘ یہ کتاب بوبی کی زندہ آنکھ کے سامنے رکھی اور چلا کر بولی ’’ بوبی تم کام یاب ہو گئے‘ دنیا میں اب تمہارا نام ہمیشہ قائم رہے گا‘‘ بوبی کی زندہ پلک رقص کرنے لگی‘ وہ تیزی سے پلک جھپک رہا تھا‘ اس کی بیوی کو محسوس ہوا‘ وہ پلک کے ذریعے
اپنی کام یابی پر تالیاں بجا رہا ہے‘ اس کی بیوی نے بھی تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ تالیوں کی اس گونج میں بوبی کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی‘وہ کتاب چھپنے کے محض تین بعد یعنی 9 مارچ 1997ء کو دنیا سے رخصت ہو گیا‘ یوں محسوس ہوتا تھا وہ اس کتاب کی تکمیل کے لیے زندہ تھا‘‘ میں خاموش ہو گیا۔وہ بولے ’’ تم اب اپنا تقابل بوبی سے کرو‘ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مکمل بنایا‘ تمہارے جسم کے تمام اعضاء کام کر رہے ہیں‘ تم دوڑتی بھاگتی متحرک زندگی گزار رہے ہو‘ تم جہاں جانا چاہتے ہو‘
اٹھ کر جوتے پہنتے ہو اور نکل کھڑے ہوتے ہو‘ تم پانی سے لے کر سیب تک اور آم سے لے کر آلو تک دنیا کی ہر چیز کا ذائقہ چکھ سکتے ہو اور تم اپنے جسم کے ایک ایک ٹشو سے زندگی کی حرارت کو محسوس کر سکتے ہو‘ تم بارش کی بوندیں گن سکتے ہو اور اپنے دائیں بائیں سورج کی بکھری ہوئی شعاعیں محسوس کر سکتے ہو‘ تمہاری زندگی کے تمام چاند بھی موجود ہیں اور تمہاری زندگی کے
سارے ذائقے اور ساری خوشبوئیں بھی زندہ ہیں لیکن تم مصروفیت کو جواز بنا کر سٹیپ ڈائون کرنا چاہتے ہو‘ تم ’’ گیو اپ‘‘ کرنا چاہتے ہو‘ دنیا میں تم سے بڑا بے وقوف‘ نالائق اور نعمتوں کا کافر کون ہو گا؟‘‘ وہ بولے ’’ انسان کا جذبہ سلامت ہو‘ یہ اپنی ہمت اور حوصلہ قائم رکھے تو یہ ایک پلک سے پوری زندگی کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اگر انسان کا حوصلہ اور ہمت جواب دے جائے تو
یہ اپنی ذات میں موہن جو ڈارو بن جاتا ہے‘ تم شرم کرو‘ حوصلہ کرو‘ ہمت کرو اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرو اس نے تمہارے ایک ایک بال کو زندگی بخشی ہے‘ وہ اگر چاہتا تو زندگی کا سارا بوجھ تمہاری ایک پلک پر ڈال دیتا اور تمہیں یہ بوجھ اٹھانا بھی پڑتا‘ شکر ادا کرو اور آگے بڑھو‘ مصروفیت اللہ کی نعمت ہوتی ہے عذاب نہیں‘‘۔





















































