اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کورونا سے تحفظ کے لیے بنائی گئی امریکی کمپنی کی گولی کے حوصلہ افزا نتائج

datetime 2  اکتوبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)دو امریکی کمپنیوں کی جانب سے کورونا سے تحفظ کے لیے بنائی گئی منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا کے ابتدائی نتائج حوصلہ کن آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دوائی مریضوں میں موت کے خطرات کو

50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی کمپنی مرک اینڈ کو انکارپوریشن نے بتایا کہ اس کی کووڈ 19 کے علاج کے لیے تجرباتی دوا مولنیوپیراویر کے استعمال سے مریض کے ہسپتال داخل ہونے یا موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرتی ہے۔مرک اور اس کی شراکت دار کمپنی ریجبیک بیک بائیو تھراپیوٹیکس امریکا میں اس دوا کے لیے ہنگامی استعمال کی منظوری جلد از جلد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔اسی طرح دنیا بھر میں ریگولیٹری اداروں کے پاس بھی درخواستیں جمع کرائی جائیں گی، مثبت نتائج کے باعث ٹرائل کے تیسرے مرحلے کو جلد روک دیا گیا ہے۔مرک کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ ڈیوس نے بتایا کہ اس پیشرفت سے دنیا بھر میں کووڈ کی وبا کے حوالے سے ڈائیلاگ میں تبدیلی آئے گی۔اگر اس دوا کو منظوری ملی تو یہ کووڈ 19 کے علاج کے لیے منہ کے ذریعے کھائی جانے والی دنیا کی پہلی اینٹی وائرل دوا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…