اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

خلیجی ریاستیں بھگوڑے حکمرانوں کی آماج گاہیں بن چکیں پڑھئے جرمن میڈیاکی رپورٹ

datetime 21  اگست‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برلن(این این آئی)جرمن میڈیا نے خلیجی ریاستوں کو بھگوڑے حکمرانوں کی آماجگاہیں قراردیتے ہوئے لکھا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کے علاہ اور بھی کئی ایسے حکمران ہیں، جنہوں نے اس وقت خلیجی ریاستوں میں پناہ لی ہوئی ہے،جرمن خبررساں ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ اقتدار کو چھوڑ کر اشرف غنی متحدہ عرب ریاست میں ہیں۔

اس ریاست میں پہلے مالی اسکینڈل کا شکار ہونے والے ہسپانوی بادشاہ خوان کارلوس اول نے سن 2014 میں رہائش اختیار کی تھی۔ انہوں نے ملک چھوڑنے سے پہلے بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے شاہی منصب اپنے بیٹے فیلپے کے حوالے کیا، جو اب اسپین کے دستوری بادشاہ ہیں۔ان کے علاوہ آسیان تنظیم کے رکن ملک تھائی لینڈ کے دو وزیر اعظم تھاکس شیناوترا اور یِنگ لک شیناوترا بھی اسی ریاست میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق تھاکسن خاندان سے ہے۔یہ امر اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات کے قرب میں واقع ایک اور خلیجی ریاست قطر نے افغان طالبان کی قیادت کو برسوں اپنی ریاست میں پناہ دیے رکھی ہے ۔ایسے ہی سعودی عرب میں بھی یوگنڈا کے سابق ڈکٹیٹر عیدی امین، تیونس کے مفرور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی اور سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب میں دس برس گزار چکے ہیں۔اشرف غنی پندرہ اگست بروز اتوار قریبی سکیورٹی کی مدد

سے ملکی ایوانِ اقتدار کو خیرباد کہہ کر کسی اجنبی ملک کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ وسطی ایشیا کی ریاست ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے تھے۔ ان کے بارے میں ایسی افواہیں بھی گردش کرتی رہی تھیں کہ وہ ملک کے اندر ہی روپوشی کی حالت میں ہیں۔اس خلیجی ریاست نے بدھ اٹھارہ اگست کو اشرف غنی اور ان کے

خاندان کی وہ درخواست قبول کی تھی، جس میں ریاستی انتظامیہ کو انہیں رہائش فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ ابوظہبی کے حکام نے اس درخواست کو انسانی بنیاد پر قبول کرنے کا بھی بتایا۔یہ امر اہم ہے کہ اشرف غنی کو اس انداز میں ملک سے فرار ہونے پر ان کی کابینہ نے نامناسب خیال کیا اور تنقید بھی کی تھی۔ غنی کے فرار ہونے کے بعد طالبان چاروں طرف سے کابل پہنچ گئے اور قریب قریب سارے ملک پر کنٹرول مکمل کر لیا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…