بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

گھر کا سربراہ ہی خاندان کے 7 افراد کا قاتل نکلا، المناک واقعہ کا حیرت انگیز ڈراپ سین

datetime 26  جون‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)پشاور کے علاقے چمکنی میں 7 افراد کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق 7 افراد کے قتل کا مرکزی ملزم گھر کا سربراہ ابراہیم ہے، ملزم کو چارسدہ کے علاقے تنگی سے گرفتار کیا گیا۔سی سی پی او عباس احسن نے دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ

کچھ دن قبل قتل کا المناک واقعہ پیش آیا، قتل کی واردات کی جدید خطوط پر تفتیش کی گئی۔سی سی پی او عباس احسن نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا نام ابراہیم ہے، قاتل کی بیوی نے اس سے طلاق لی تھی، ملزم کے مطابق بیوی نے دھوکے سے طلاق لی جس کا اسے رنج تھا۔پولیس حکام کاکہنا تھا کہ ملزم ابراہیم نے 22 جون کو ایک ہی خاندان کے 7 افراد کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کیا، طیش میں آنے کے بعد تین بچوں، چچازاد بھائی کی بیوی اور بچوں کو بھی قتل کر دیا۔سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ ملزم اس کیس میں مدعی بھی ہے، ملزم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ قدم اٹھایا اور واقعے کو زمین کے تنازع کا رنگ دے دیا۔ دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس شاہ منصور ( صوابی) میں جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت سے ملحقہ زنانہ انتظار گاہ میں نوجوان بیٹے نے اپنی سگی ماں پر پستول سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ۔ ایس ایچ او تھانہ زیدہ شفیع الرحمن نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ ہفتہ کی سہ پہر موضع نارنجی کی ایک خاتون کو 365Aکے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے دارالامان سے لایا گیا تھا عدالت سے بری ہونے پر مذکورہ خاتون عدالت سے ملحقہ زنانہ

انتظار گاہ میں بیٹھی تھی کہ اس دوران ان کا پندرہ سالہ بیٹا حمید ولد زبیر سکنہ نارنجی نے آکر ان پر پستول سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہو گئی جب کہ ملزم کو آلہ قتل پستول سمیت موقع پر موجود پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق مقتولہ ایک ماہ قبل گھر سے چلی گئی تھی جس کا ان کے بیٹے حمید کو دکھ تھا۔جب کہ اس کی رپورٹ تھانہ پر مولی میں درج کرائی گئی تھی۔پولیس نے مقتولہ کو گرفتار کرنے کے بعد عدالتی احکامات پر دارالامان منتقل کر دیا تھا۔جب کہ ہفتہ کے روز پیشی کے لئے دارالا مان سے مقامی عدالت لائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…