پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب کب جائینگے؟ تیاریوں میں تیزی آگئی

datetime 29  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)وزیراعظم عمران خان کے 7 مئی کو 2روزہ دورہ سعودی عرب پر جانے کا امکان ، تیاریوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر کر رہے ہیں جس دوران وہ ان سے ملاقات بھی کریں گے ۔ وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ اعلیٰ

سطح وفد بھی سعودی عرب جائے گا ، دورے کے دوران مختلف امور زیر غور آئیں گے ۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 90لاکھ پاکستانی تارکین وطن ہمارا اثاثہ ہیں،سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ اور سفیرکی جانب سے تارکین وطن کا خیال نہ رکھنے اور پیسے لینے کی شکایات کی تحقیقات کروا کر اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں گے،جب تک ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک تارکین وطن اس خلیج کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں،اپنے خاندانوں سے کئی کئی سال دور رہ کر محنت مزدوری کرکے اپنے وطن ترسیلات زر بھجوانے والے تارکین وطن ہمارے محسن ہیں،ہمارے سفارت خانوں کی جانب سے ان کی تحسین ہونی چاہیئے۔جمعرات کو اسلام آباد میں روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ نے قلیل عرصہ میں ایک ارب ڈالر کا اہم سنگ میل عبورکیا ہے،اس پر رضاباقر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے

ہیں،اس کو اور آگے بڑھانے اورتارکین وطن کے لئے روشن ڈیجیٹل کاراور سماجی خدمت بھی کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 90لاکھ پاکستانی تارکین وطن بیرون ممالک ہیں ،اگر ان میں سے ہم 20لاکھ تک بھی پہنچ گئے تو یہ اکائونٹ مزید بڑھ سکتا ہے،اس کے لئےمارکیٹنگ

پر غور کریں اور وزیرخزانہ شوکت ترین کی مارکیٹنگ کے شعبہ میں مہارت سے فائدہ اٹھائیں گے،پاکستان کا مسئلہ یہ ہےکہ یہاں کسی نے اپنی برآمدات بڑھانے پر غورنہیں کیا،طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان بھی ہمارا المیہ رہا ہے،30سال میں ڈالر کی کمی اور برآمدات کم ہونے

کی وجہ سے 20بار عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑا،جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھتی ہمیں اوورسیز پاکستانیوں پر انحصار کرنا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ شوکت ترین جب پہلے وزیر خزانہ تھے تب انہوں نے ترسیلات زر بڑھانے کے لئے کام کیا اب یہ دوسری بار ہورہا ہے۔وزیر اعظم نے

کہا کہ گھروں کےلئے عام آدمی کو قرض کی فراہمی بنکوں کی عادت نہیں ،امیر آدمی کو یہ سہولت آرام سے مل جاتی ہے اس کے لئے بنکوں کو اپنے عملہ کی تربیت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ میں بہت بہتری آئی ہے۔ایک سال میں ریکارڈ ترسیلات زر آئی ہیں اور

ماضی کا تمام ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے،تاہم یہ کم ہیں ،ہمیں اس جانب مزید توجہ مرکوز کرنا ہوگی،کرنٹ اکائونٹ خسارہ سے روپے پر دبائو پڑتا ہے اس سے شرح نمو اور بیرونی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے،روشنڈیجیٹل اہم پروگرام ہے،بنکوں نے جس طرح ساتھ دیا ہے اس کو سراہتے

ہیں،ہمیں ہائوسنگ کے شعبہ میں بنکوں کا بہت بڑا کردار درکار ہے،پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے ترسیلات زر کے لئے ان کا کردار چاہیئے،تارکین وطن ہمارا اثاثہ ہیں،ان میں محنت کش طبقہ خصوصی طور پر ہمارا اثاثہ ہے،میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب میں لندن میں

کرکٹ کھیلا کرتا تھا تب یہ محنت کش طبقہ سب سے زیادہ ہماری حوصلہ افزائی کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے سفارت خانے اس طرح ان محنت کشوں کو نہیں سراہتے جس طرح انہیں سراہا جانا چاہیے،یہ ایک ایک کمرے میں پانج سے سات لوگ رہ کر اور اوور ٹائم لگا کر

محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کو پیسے بھجواتے ہیں،یہ ہمارے لئے خصوصی لوگ ہیں،ہم ان کو نوکریاں نہیں دے سکے،یہ کئی کئی سال اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں،میرا سفارتخانوں کو یہ پیغام ہے کہ ان کا خیال رکھیں،یہ آپ کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔وزیر اعظم نے

کہا کہ سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے نے اپنے محنت کش طبقہ کا وہ خیال نہیں رکھا جو رکھنا چاہیئے تھا اور ان کی مدد کی بجائے ان سے پیسے لینے کی بھی شکایات ہیں،اس کی انکوائری کروارہے ہیں،وہاں تعینات سفیر کی بھی تحقیقات ہوں گی،یہاں سے اضافی عملہ واپس منگوا رہے ہیں،جو جو اس میں ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کریں گے،اور مثالی سزائیں دیں گے۔وزیر اعظم نے گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…