اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ساڑھے 11 ارب ریال کی منی لانڈرنگ کا انکشاف

datetime 28  جنوری‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کمیشن ”نزاھہ” کی طرف سے مرکزی بنک کے عہدیداروں، پولیس اور دوسرے سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے بے نامی کھاتوں اور ذرائع سے خطیر رقم بیرون ملک منتقل کرنے کے کئی نئے کیسز کا پتہ چلایا ہے۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروباری افراد، سرکاری ملازمین اور غیر ملکی عناصر پر مشتمل اس کرپٹ مافیا نے مجموعی طور پر مختلف ذرائع سے 11 ارب 50 کروڑ ریال کی رقم بیرون ملک منتقل کی ہے۔کرپشن کے میگا سکینڈل میں 32 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ فیلڈ انوسٹی گیشن کرنے اور تجارتی اداروں کے بینک کھاتوں کا تجزیہ کرنے اور کسٹم درآمد کی تفصیلات کو مربوط کرنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ان تجارتی اداروں کے کھاتوں میں جو بے نامی نقد رقم جمع کی گئی ہے اس کی مالیت 11.59 ارب ریال ہے۔ یہ خطیر رقم مملکت سے باہر منتقل کی گئی۔ اس کیس میں 5 غیر ملکی عناصر کو بینک میں جمع کرانے کے لیے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے 9.78 ملین ریال برآمد کیے گئے ہیں۔ وہ یہ رقم بنک کے ذریعے بیرون ملک بھیجنا چاہتے تھے۔انسداد بدعنوانی کمیشن نے اس کیس میں ملوث ہونے کے شبے میں 7 کاروباری افراد،

12 بینک ملازمین، پولیس میں ایک نان کمیشنڈ افسر، 5 مقامی اور 2 غیر ملکیوں کو رشوت لے کر منی لانڈرنگ، جعلسازی اور غیر قانونی مالی منافع خوری، پیشہ وارانہ اثر ورسوخ کے ناجائز استعمال اور خطیر رقم چھپانے کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے

سامنے آنے والا پہلا کیس ایک مقامی کاروباری شخصیت کا ہے جس نے خطیر رقم بیرون ملک بھیجی ہے۔ اس نے اپنے، اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے نام متعدد فرضی اور جعلی کمپنیاں قائم کیں۔ اس کے بعد ان کے ناموں کے ساتھ بنک کھاتے تیار کیے۔ ماہانہ بنیادوں پر ان بنک کھاتوں میں

متعدد افراد کے ذریعے رقم جمع کرائی گئی۔ منی لانڈرنگ کو چھپانے کے لیے ایک پولیس افسر کو 3 لاکھ ریال اور ایک دوسرے شخص کو چالیس لاکھ ریال کی رقم رشوت کے طور پر دی گئی۔دوسرے کیس میں پانچ کاروباری شخصیات کی جعلی کمپنیوں، ان کے بنک کھاتوں اور منی لانڈرنگ

کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی شہریوں کے بنک اکائونٹس کو ماہانہ کی بنیاد پر رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔تیسرے مقدمہ میں ایک بنک برانچ کے مینیجر کو منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا ہے جو جعلی بنک کھاتے کھول کر غیر ملکی افراد کو ان کے ذریعے رقوم بھجوانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…