جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

برطانوی و بھارتی ایجنسیوں سے رابطوں کا الزام، وفاقی علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمن کو 4 سوالات کے جواب دینے کا چیلنج دیدیا  

datetime 11  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو 4 سوالات کے جواب دینے کا چیلنج دے دیا۔ جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمن سے 4 سوالات پوچھے اور انہیں جلسے میں جواب دینے کا چیلنج کردیا۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق پہلا سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں، آپ برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 سے رابطے میں تھے، ان سے کیا بات کررہے تھے؟وفاقی وزیر نے دوسرا سوال کیا کہ آپ کی اجیت دوول ساتھ میٹنگ ہوئی تھی، قوم کو بتائیں، اْس ملاقات میں کیا بات ہوئی؟علی امین گنڈا پور نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ سے پہلے اور اْس کے دوران آپ کے بین الاقوامی قوتوں سے مواتر رابطے تھے، اس دوران کیا باتیں ہورہی تھیں؟ان کا چوتھا سوال تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب آپ فرقہ واریت کی گھنائونی سازش میں بھی ملوث رہے ہیں، آپ کو اس حوالے سے فنڈنگ بھی ہوئی، قوم کو جواب دیں۔وفاقی وزیر نے دوران گفتگو کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو ان کے حلقے کے عوام مسترد کرچکے ہیں اب وہ کرپشن بچائو تحریک کے سربراہ بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ میرے خلاف عدالت جائیں اور مجھے چیلنج کریں، میں وہاں بھی ان کی تمام جائیدادیں ثابت کروں۔علی امین گنڈا پور نے استفسار کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا کوئی کاروبار نہیں، نہ ہی ان کے بچوں، بھائیوں کا کوئی بزنس ہے، پھر ان کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سربراہ آج کل بڑے دعوے کررہے ہیں کہ ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، یہ اوچھے ہتھکنڈے صرف اس لیے ہیں کہ چوری کا پیسہ بچ جائے۔سابق وزیراعظم کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہاکہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم، اشتہاری اور مفرور ہیں، ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کرپشن کے پیسوں سے خریدے گئے فلیٹوں میں ہی بیٹھے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ کہتے ہیں کہ آر یا پار ہوگا، بالکل ٹھیک کہتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال آر یا پار والی ہی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…