ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ننھی علیشا کو درندوں سے بچانے والا ہیرو اے ایس آئی محمد بخش پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ،بچی کا آپریشن کرنے والا ڈاکٹر بھی 6 گھنٹے تک روتا رہا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )کشمور ننھی بچی کے واقعے سے متعلق اے ایس آئی محمد بخش نے ایک تقریب کے دوران بتایا کہ متاثرہ بچی کی والدہ میرے پاس آئیں تو انہوں نے رونا شروع کر دیا میں نے انہیں سمجھا کر واپس گھر بھیجا ، والدہ نے مجھے 2 نمبر دیے انہوں نے مجھے بتایا کہ میری بچی سے بات کروائی جاتی تو وہ رو رہی ہوتی جبکہ ملزمان ہر دفعہ کال کر کے کسی

دوسری خاتون کو لانے کا کہتے تھے ۔ اے ایس آئی محمد بخش کا مزید کہنا تھا کہ ان کی والدہ سے کہا ہے کہ آپ انہیں دوسری عورت کا لانے کا کا وعدہ کریں اور انہیں اعتماد میں لیں تاکہ ملزمان کو شک نہ ہو اور ہم انہیں پکڑ لیں گے ۔ فون پر بات کرنے کے بعد میری بچی ریشما ان کے ساتھ گئی اور ملزمان سے بات بھی کرتی جس کے بعد پولیس نے ملزم کو پکڑ لیا تھا ۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بچی نظر نہیں آرہی تھی ملزم سے پوچھا تو اس نے گھر کا بتایا جس کے بعد گھر گئے ، بچی کو ایک گندے کپڑے میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا بچی کی حالت ناقابل بیان ہے ۔ اس دیکھ کر میں پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گیا ،متاثرہ بچی کو ہسپتال پہنچاگیا جہاں پر ڈاکٹر اس کا 6گھنٹے تک آپریشن کرتا رہا اور وہ بھی مسلسل روتا رہا ۔ اے ایس آئی محمد بخش نے کہا کہ اگر متاثرہ بچی پہلے مل جاتی تو وہ ملزم کو دیکھتے ہی گولی مار دیتا، یا پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ محبت اور سپورٹ کرنے پر اپنے پولیس افسران اورعام شہریوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اے ایس آئی محمد بخش کی بہادربیٹی ریشما نے سینٹرل پولیس آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ متاثرہ خاتون کی بیٹی بہت رو رہی تھی اور اس کی آواز سن کروالد کے ساتھ مشن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور یہ تہیہ کرلیا تھا اگران کی جان جاتی ہے تو جائے لیکن متاثرہ بچی کو کسی بھی صورت میں درندہ صفت ملزمان کے چنگل سے حاصل کرنا ہے۔بہادر پولیس افسر نے والدین سے درخواست کی ہے کہ خدارا اپنے بچوں کو بھروسے والے لوگوں کیساتھ سکول بھیجیں یا پھر سب بہتر حل یہ ہے کہ انہیں خود لے کر جائیں اور ساتھ واپس لے کر آئیں تاکہ وہ درندہ صفت انسانوں سے محفوظ رہ سکیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…