ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

اس سے بڑی کیا غداری ہو گی کہ یہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کے خلاف یہ کام کرو،اپوزیشن فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو میں دعویٰ

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کا مقصد بھارت کو بالادستی فراہم کرنا ہے، اپوزیشن کی اس سے بڑی غداری اور کیا ہوگی کہ یہ لوگ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے آرمی چیف کے خلاف بغاوت کردو۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنے ملکی ادارے فوج کو کمزور کرنا

چاہتی ہے، اس سے بڑی غداری اور کیا ہوگی کہ یہ لوگ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے آرمی چیف کے خلاف بغاوت کردو، بھلا یہ بات پاکستان کے مفاد میں ہے؟۔انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کو سارے پاکستانی جانتے ہیں کہ وہ امریکا میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف کام کررہا ہے، پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کا مقصد بھارت کو بالادستی فراہم کرنا ہے، دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ دہشت گردی اور دیگر ذرائع سے فوج اور ملک کو کمزور کیا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اس وقت پاکستان کی فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے، نواز شریف کے بیانات کی وجہ سے آج ہندوستانی میڈیا پیش کرتا ہے کہ عمران خان کوئی ولن ہے اور نواز شریف کوئی بہت بڑی ڈیمو کریٹک شخصیت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی فوج کو سپورٹ کرنا چاہیے، ایران، افغانستان، شام سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک میں کیا کچھ ہورہا ہے سب کے سامنے ہے، اگر پاکستان عالمی سازشوں سے بچا ہوا ہے تو صرف فوج کی وجہ سے ہے لیکن اس کے برعکس یہ لوگ اپنی چوری بچانے کے لیے ملکی اداروں کو کمزور کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا بزنس کیا ہے؟ یہاں سے پیسے چوری کیے اور وہاں ظاہر کردیے، ان سے پوچھا جائے کہ پیسے کہاں سے آئے؟ تو یہ لوگ بتا ہی نہیں سکتے کہ کہاں سے آئے؟ آئی ایس آئی کو ان کے باہر کے سارے اثاثوں کا پتا چل گیا تاہم آف شور کمپنیوں کو ثابت کرنا مشکل

ہوتا ہے، اگر پاناما لیکس نہ ہوتیں تو ان کی لندن کی جائیدادوں کا بھی نہیں پتا چلتا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 18 سال کی عمر کے بعد سے میں نے کسی سے پیسے نہیں مانگے اپنی کمائی پر گزارا کیا، اپوزیشن کی کرپشن نے ملک تباہ کردیا اور انہوں نے قرضے لے کر ملک چلایا، ان لوگوں نے فیفٹ بل میں ہمیں بلیک میل کیا اور پھر کہتے ہیں کہ این آر او کب مانگا۔عمران خان نے کہا

کہ کرکٹر تھا تو کچھ اور مزاج تھا تاہم سیاست میں آنے کے بعد خود کو بدلنا پڑا، اس وقت سیکیورٹی اخراجات کی وجہ سے ملک سے باہر گھومنے نہیں جارہا حتی کہ برسراقتدار آنے کے بعد سے اپنے بچوں سے ملنے بھی لندن نہیں گیا۔فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں معاون خصوصی اطلاعات بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ان کی بہت ضرورت تھی، ہمارے وزیر اتنی

بات نہیں کررہے تھے جتنی کرنی چاہیے، عثمان بزدار کی کمزوری یہ ہے کہ وہ میڈیا کو نہیں دیکھتے، ان میں میڈیا کا سامنا کرنے اعتماد نہیں لیکن وہ اپنا کام بہترین طریقے سے کررہے ہیں جبکہ فیاض چوہان بھی اچھا کام کررہے تھے۔عثمان بزدار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ملکی سربراہ کم اخراجات کی مثال قائم کرتا ہے، گھر اگر قرضے سے چل رہا ہو تو عیاشی نہیں کی

جاتی، عثمان بزدار ایک غریب ترین علاقے سے منتخب ہوئے انہیں سمجھ ہے کہ غریب آدمی کے مسائل کیا ہیں، جب آپ ایسے علاقوں سے آتے ہیں تو آپ کے رشتہ دار چاہتے ہیں کہ انہیں بھی کچھ مراعات ملیں کیوں کہ وہاں سے آپ کو ووٹ ملا ہوتا ہے اس کے مقابلے میں شہباز شریف نے صرف دو کمپنیوں سے 23 ارب روپے کی کرپشن کی، عثمان بزدار مجھ سے پوچھے بغیر کسی

سے کوئی معاہدہ نہیں کرتے، میں ضمانت دیتا ہوں کہ پنجاب حکومت کو خسارے میں جانے نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ سارے جیب کترے مل کر شور مچارہے ہیں ان کی جلد پکڑ دھکڑ ہوگی، سارے جیب کترے مل کر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ حکومت گرا دو لیکن

ہم ان سے لوٹا گیا پیسہ لیے بغیر نہیں چھوڑیں گے، ہمیں ایسے ایسے ثبوت مل رہے ہیں کہ یہ لوگ جیلوں میں جائیں گے، ان کی سیاست کا مقصد صرف اپنا پیسہ بچانا ہے اور یہ میں بارہا کہتا رہا ہوں کہ جب بھی ان پر ہاتھ ڈالوں گا یہ لوگ اکٹھے ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…