لاہور (آن لائن) پنجاب حکومت اور عالمی بینک کے درمیان گندم کی خریداری سے متعلق طے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی بینک نے پنجاب حکومت کو 1ارب 60 کروڑ روپے دینے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت اور
عالمی بینک کے درمیان 2019ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت عالمی بینک نے پنجاب حکومت کو پابند کیا تھا کہ وہ گندم کے کاشتکاروں سے 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم سے زائد نہیں خریدے گی۔ مگر پنجاب حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گندم کے کاشکاروں سے 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کر سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کرلیا۔ جس کا تمام تر بوجھ عوام کے کندھوں پر آن پڑا ہے اور شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک نے معاہدے کے تحت 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم سے زائد گندم کا کوٹہ اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ جس کا مقصد عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جانا تھا۔ اس حوالے سے محکمہ خوراک پنجاب کاکہنا ہے کہ محکمہ نے 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدے جانے پر عالمی بینک کو باقاعدہ آگاہ کردیا تھا اور حکومت نے یہ فیصلہ کسانوں کے مفاد میں کیا تھا۔