پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے مگر ایسا کرنے سے کیا تباہی آسکتی ہے ؟ وزیراعظم عمران خان کا دوٹوک اعلان

datetime 16  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے مگریہ تباہی کا راستہ ہے،مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں، ملک درست سمت میں آرہے ہیں ،ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے،مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے۔

جمعہ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران نے کہا کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ دسمبر میں میرے آنے کے بعد سے اب تک نسٹ نے بہت اہم اور بنیادی چیز پیدا کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے، دنیا میں کم ملک ہیں جو اپنے اسٹنٹ بنارہے ہیں، جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکے اس کیلئے چیزیں آسانی ہونی چاہئیں تھیں۔انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر تھوڑی دیر میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی ہے تو زرمبادلہ ختم ہوجاتے ہیں اور جب زرمبادلہ کم ہوں گے تو روپیہ گرے گا جس سے مہنگائی آئیگی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم پام آئل، گھی، تیل اور دالوں سمیت کئی اشیاء درآمد کرتے ہیں، اس طرح سے ہی ملک غریب ہوتا ہے، اگر ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ جب طیب اردوان اقتدار میں آئے تو ترکی کا حال ہمارے جیسا تھا وہاں بھی جمہوریت پنپ نہیں رہی تھی اور انہیں بھی آئی ایم ایف جانا پڑتا تھا تاہم انہوں نے منصوبہ بندی کرکے برآمدات بڑھائیں مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ برآمدات بڑھانا ہے، 60 کی دہائی میں ہماری برآمدات بڑھ رہی تھیں اور اس وقت ہماری سمت درست تھی لیکن 70 میں ایک کنفیوژ مائنڈ سیٹ اسلامک سوشل ازم کے ساتھ آگیا، بد قسمتی سے نیشنلائزیشن شروع ہوگئی اور آج تک پاکستان اس مائنڈ سیٹ نہیں نکلا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری لانے اور کاروبار چلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں جو سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں لیکن جب ہماری حکومت آئی تو افسوس ہوا کہ یہ لوگ پاکستان نہیں آرہے۔عمران خان نے کہا کہ ملک درست سمت میں جارہا ہے، مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کبھی کبھی میرے سامنے بھی دو راستے آجاتے ہیں، سارے ڈاکو شور مچاتے ہیں، میرے لیے آسان راستہ ہے کہ اپوزیشن کو معاف کردوں تو میرے پانچ سال آسانی سے گزر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہو جائے، پھر ہم بھی پارلیمنٹ میں تقریریں کریں گے تاہم یہ تباہی کا راستہ ہے اس لیے زندگی میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہی فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…