جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

شہباز شریف کا کیس کون لڑیگا؟ ن لیگ کے صدر نے حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 29  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)گزشتہ روز گرفتار ہونے والے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدحزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے اپنا کیس خود لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔نجی ٹی وی کے مطابق میاں شہباز شریف آج احتساب عدالت میں خود دلائل دیں گے۔

شہباز شریف نے اپنے کیس کیلئے کسی وکیل کی خدمات نہیں لی ہیں۔دریں اثناآمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں ملزم محمد شہباز شریف نے دیگر شریک ملزمان، اہل خانہ، بے نامی داروں، فرنٹ مین، قریبی ساتھیوں، ملازمین اور منی چینجرز سے ملی بھگت کر کے منی لانڈرنگ کے منظم نظام کے تحت 7328 ملین روپے کے آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔ نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ریفرنس کے مطابق منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثے بنانے میں محمد شہباز شریف کا نمایاں کردار رہا، 1990 میں مذکورہ ملزم نے اپنے نقد اثاثے 2.121 ملین روپے ظاہر کئے تھے جبکہ 1998 تک اس کے نقد اثاثے (ان کے چھوٹے بچوں کے اثاثے14.865 ملین روپے) تک پہنچ گئے۔ 2008 سے 2018 کے دوران سرکاری عہدہ سنبھالنے کے بعد جب ملزم محمد شہباز شریف وزیراعلی پنجاب تھے تو اس کے خاندان نے اس عرصہ کے دوران 7 ہزار 328 ملین روپے کے اثاثے حاصل کئے۔

شریف گروپ آف کمپنیز کے زیر سایہ 13 نئی کمپنیاں قائم کر کے 2770 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ان کمپنیوں میں میسرز شریف فیڈ، میسرز چنیوٹ پاور، میسرز العربیہ شوگر ملز، میسرز شریف ڈیری فارمز اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں، ان کمپنیوں کے ذرائع آمدن نامعلوم تھے۔

ملزم نے بے نامی کمپنیاں قائم کیں جن میں میسرز گڈنیچر ٹریڈنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز یونیتاس سٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز وقار ٹریڈنگ کمپنی اور میسرز نثار ٹریڈنگ کنسرن (جو کہ وزیراعلی سیکرٹریٹ کے ملازمین نثار احمد اور علی احمد کے نام تھی) شامل ہیں۔

ان کمپنیوں نے مبینہ طورپر 2400.088 ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ ملزم نے غیر ملکی اثاثوں سمیت 96 ایچ ماڈل ٹائون لاہور، نشاط لاج ڈونگا گلی، وائسپرنگ پائینز میں ولاز اور ڈی ایچ اے لاہور میں گھر 619.858 ملین روپے کی لاگت سے خریدا۔ غیر قانونی طورپر حاصل

کئے گئے 7328 ملین روپے کے اثاثوں کا جواز پیش کرنے کے تناظر میں ملزم اور اس کے خاندان کے ممبران/بے نامی داروں نے 1597 ملین روپے کے غیر ملکی ترسیلات زر اور 1010 ملین روپے کا قرضہ ظاہر کیا تاہم یہ غلط ثابت ہوا اور ظاہر ہوا کہ مذکورہ ملزم اور اس کے

اہل خانہ کو بیرون ملک سے پیسے نہیں بھیجے گئے جبکہ قرضہ بھی جھوٹا ذریعہ ثابت ہوا حالانکہ قرضہ لینے والوں کو شریف گروپ کے ملازمین کی جانب سے رقوم کی ادائیگی کی گئی۔ پس منی لانڈرنگ کی رقم سے حاصل کئے گئے اثاثوں کی ملکیت 6122 ملین روپے بنی جو کہ 2018 میں 7328 ملین روپے تک پہنچ گئی جبکہ محمد شہباز شریف اور ان کے

اہل خانہ کے مجموعی ظاہر شدہ اثاثے 584.444 ملین روپے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان اور ان کے اہل خانہ کے یہ اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں۔ ملزم محمد شہباز شریف نے دیگر شریک ملزموں، اہل خانہ، بے نامی داروں، فرنٹ پرسنز، قریبی ساتھیوں، ملازمین اور منی چینجرز

سے ملی بھگت کر کے منی لانڈرنگ کے منظم نظام کے تحت 7328 ملین روپے کے آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔ ملزمان نے آمدن سے زائد اثاثوں کا جواز پیش کرنے کیلئے آمدن کے جعلی ثبوت پیش کئے۔ انوسٹی گیشن کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان کے ظاہر شدہ اور غیر ظاہر شدہ اثاثے سامنے آ چکے ہیں جو کہ ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے اور ان کے ذرائع آمدن جعلی ثابت ہوئے ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…