جمعرات‬‮ ، 03 جولائی‬‮ 2025 

’’وفاقی کابینہ میں دوہری شہریت والے ارکان کی موجودگی سیکیورٹی رسک قرار‘‘کیا ملک اور پی ٹی آئی میں قابل لوگوں کی کمی تھی؟حساس معاملات تک رسائی دینا انتہائی تشویشناک۔۔کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟کیا چیز ثابت ہو چکی ہے ؟ تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 19  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے کہاہے کہ 19 غیر منتخب کابینہ ارکان میں 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل ہیں، دوہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔ایک بیان میں شیری رحمان نے کہاکہ دوہری شہریت کے لوگوں کو کابینہ کا حصہ کیوں اور کس قانون کے تحت بنایا گیا ہے، عمران خان ماضی میں

دوہری شہریت کے حامل کابینہ ارکان کی سخت مخالفت کرتے تھے، وزیراعظم نے اپنی ہر بات سے یو ٹرن لیا ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ کیا وزیراعظم نے معلوم ہوتے ہوئے دوہری شہریت کے حامل لوگوں کو آئینی فورم کا حصہ بنایا؟ اگر وزیراعظم کو معلوم نہیں تھا تو یہ مزید تشویش کی بات ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟ وزیراعظم کو نیا پاکستان کی تعمیر کے لئے بیرون ملک سے کاریگر درآمد کرنے پڑے۔ شیری رحمان نے کہاکہ کیا ملک اور تحریک انصاف میں قابل لوگوں کی کمی تھی،ثابت ہو چکا اس حکومت کے پاس کوئی پالیسی اور وژن نہیں۔‎جبکہ پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور مشیروں کی اصلیت سامنے آنے کے بعد سلیکٹڈ وزیراعظم بے نقاب ہو چکے ہیں۔نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت کے خلاف دعوے کرنے والے کی آدھی کابینہ دوہری شہریت کی حامل نکلی ہے اور بیرون ممالک سے وفاداری کا حلف اٹھانے والوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا، امریکی شہری معید یوسف کو حساس معاملات تک رسائی دینا انتہائی تشویشناک ہے۔اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں دہری شہریت والے ارکان کی موجودگی سیکیورٹی رسک ہے، آئین دہری شہریت کے حامل افراد کو کابینہ اور پارلیمان کا رکن بننے کی اجازت نہیں دیتا۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ حساس معاملات میں غیر ملکی شہریت کےحامل افراد کی موجودگی سنگین معاملہ ہے،عمران خان نے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم عمران خان کے مشیروں اور معاونین خصوصی کی جائیداد اور اثاثوں کی فہرست جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم کے 19 معاونین خصوصی اور مشیروں میں سے 4 غیر ملکی شہریت اور کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وائے می ناٹ


میرا پہلا تاثر حیرت تھی بلکہ رکیے میں صدمے میں…

حکمت کی واپسی

بیسویں صدی تک گھوڑے قوموں‘ معاشروں اور قبیلوں…

سٹوری آف لائف

یہ پیٹر کی کہانی ہے‘ مشرقی یورپ کے پیٹر کی کہانی۔…

ٹیسٹنگ گرائونڈ

چنگیز خان اس تکنیک کا موجد تھا‘ وہ اسے سلامی…

کرپٹوکرنسی

وہ امیر آدمی تھا بلکہ بہت ہی امیر آدمی تھا‘ اللہ…

کنفیوژن

وراثت میں اسے پانچ لاکھ 18 ہزار چارسو طلائی سکے…

دیوار چین سے

میں دیوار چین پر دوسری مرتبہ آیا‘ 2006ء میں پہلی…

شیان میں آخری دن

شیان کی فصیل (سٹی وال) عالمی ورثے میں شامل نہیں…

شیان کی قدیم مسجد

ہوکنگ پیلس چینی سٹائل کی عمارتوں کا وسیع کمپلیکس…

2200سال بعد

شیان بیجنگ سے ایک ہزار اسی کلومیٹر کے فاصلے پر…

ٹیرا کوٹا واریئرز

اس کا نام چن شی ہونگ تھا اوروہ تیرہ سال کی عمر…