جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ڈیفنس سے ’’اغوا‘‘ چینی تاجر خیبرپختونخوا سے بازیاب،اہم انکشافات‎

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

ڈیفنس سے ’’اغوا‘‘ چینی تاجر خیبرپختونخوا سے بازیاب،اہم انکشافات‎ کراچی (این این آئی)کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گزشتہ ہفتے لاپتہ ہونے والے چینی تاجر کو خیبرپختونخوا سے بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے معاملے کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی تاہم یہ تصدیق کی گئی کہ چینی شہری محفوظ ہے۔ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل نے بتایا کہ انہیں (تاجر) کو

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تلاش کیا گیا اور وہ کے پی سے بازیاب ہوا۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے گزری تھانے میں لاپتہ تاجر کے ایک ساتھی کی جانب سے شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔مذکورہ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 (مذموم ارادے کے تحت اغوا) شامل کی گئی تھی۔اس حوالے سے شکایت کنندہ نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ 20 اپریل کو شاہ 7 بجے تاجر ڈی ایچ اے فیز 7 میں اپنی رہائش گاہ سے نکلا اور انہیں بتایا کہ وہ اپنے چینی دوستوں کے ساتھ ڈنر کے لیے جارہا ہے۔شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد انہوں نے تاجر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کا جواب نہ آسکا، اس کے بعد میں اس شخص سے رابطہ کیا جس نے متاثرہ فرد کو کرائے پر گاڑی دی تھی اور پھر اس کی مدد سے ہم گاڑی ٹریس کرنے کامیاب ہوئے اور وہ متروکہ حالات میں خیابان اتحاد پر سے ملی تاہم پولیس اب بھی یقین نہیں ہے کہ چینی شہری کو اصل میں اغوا کیا گیا تھا۔‎مزید برآں ڈی آئی جی جنوبی کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا کہ یہ اغوا برائے تاوان کا کیس تھا۔دوسری جانب چینی شہری کو بازیابی کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا گیا۔ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ اور سی ڈی آر کی مدد سے شروع میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ اغوا کا کیس نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی شہری کاروبار کے لیے 25

فروری کو پاکستان آیا تھا اور کافی لوگوں کا مقروض ہو گیا تھا جبکہ وہ قرض کی واپسی کے لیے پریشان تھا۔ڈی آئی جی جنوبی کے مطابق چینی شہری کے ویزے کی معیاد بھی 31 مارچ کو ختم ہو چکی تھی، جس پر مجسٹریٹ کے حکم پر فارنر ایکٹ کا مقدمہ چینی شہری کے خلاف گزری تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ شہری نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ

وہ بذریعہ روڈ چین جانا چاہتا تھا۔ادھر چینی قونصل جنرل نے اپنے شہری کی بحفاظت بازیابی میں پولیس کے کردار کی تعریف بھی کی۔خیال رہے کہ 2 سال قبل مئی 2017 میں کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے نامعلوم مسلح افراد نے ایک چینی جوڑے کو اغوا کیا تھا۔بعدازاں اکتوبر 2017 میں دفتر خارجہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کوئٹہ سے اغوا ہونے والے دو چینی شہریوں کو قتل کردیا گیا تھا۔‎



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…