بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے متعلق  جعلی خبروں کی وجہ سے گھبرائے   شہریوں کی ہسپتالوں میں بھیڑ لگ گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن)کورونا وائرس وبا کے سندھ میں پھیلنے کے ساتھ ہی جعلی خبروں کی وجہ سے گھبرائے ہوئے شہریوں کی ہسپتالوں میں بھیڑ لگ گئی۔گزشتہ دو روز میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) کے اوجھا کیمپس، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال، انڈس ہسپتال اور آغا خان ہسپتال میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے کے لیے پریشان شہریوں کی بھیڑ لگ گئی۔ ماہرین کا ہے کہ کہ زیادہ تر شہری

اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ اسکریننگ کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور انہیں عام پریکٹشنر سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ ایک ہفتے میں اوجھا کیمپس میں کورونا وائرس کی علامات کے ساتھ ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کا رش دیکھا گیا۔اوجھا میں آئی سولیشن یونٹ کی انچارج ڈاکٹر شوبھا لکشمی کا کہنا تھا کہ ‘ہم یومیہ 40 سے 50 مریضوں سے بڑھ کر 400 مریض پر آگئے ہیں، ہمارے پاس موجود کٹس کی تعداد محدود ہیں اور سب کا ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا، کئی افراد مایوس ہوکر لوٹ جاتے ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اسکریننگ کے معیار پر پورا نہیں اترتے’۔انڈس ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اختر عزیز خان کا کہنا تھا کہ تقریباً 150 افراد روزانہ کی بنیاد پر وائرس کا ٹیسٹ کرانے آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے لیے اسکریننگ کا عمل کیا جاتا ہے تاکہ ٹیسٹ کٹس ضائع نہ ہوں، لوگوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ غلط معلومات یا سوشل میڈیا ہے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے’۔ڈاؤ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللہ خان نے اسکریننگ کے معیار کے بارے میں بتایا کہ ‘مریض سے ان کے اور ان کے رابطے میں لوگوں کے سفری معلومات کے حوالے سے متعدد سوالات کیے جائیں گے اور اگر ڈاکٹر نے کورونا وائرس کا شبہ مسترد کردیا تو مریض کو واپس بھیج دیا جائے گا’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…