پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

میکے میں 24 سالہ حاملہ دوشیزہ کی زہریلی کیمیکل سے موت، شوہر نے الزام کس کے سر دھر دیا؟

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

سرگودھا(نیوز ڈیسک) سرگودھا میں پسند کی شادی کرنے والی 24 سالہ حاملہ دوشیزہ کی زہریلی کیمیکل سے موت کا معمہ حل کرنے کے لئے حکام نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر کے خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی جس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے خودکشی یا قتل کے شواہد کی روشنی میں تحقیقات شروع کر دی۔ تاہم نعش کو سپردخاک کر دیا گیا

اور اس کے رپورٹ کی رپورٹ پر میکے میں کوئی زہریلی کیمیکل پلانے کے الزام میں دوشیزہ کے دونوں بھائیوں۔ماموں اور بھاوج کے خلاف درج درج مقدمہ قتل کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے اور دوشیزہ کی موت کی میڈیکل رپورٹ کے آنے پر بھی حقائق سے پردہ چاک ہو جائے گا۔زرائع کے مطابق سرگودھا فیصل آباد روڈ کے علاقہ عطاء شہید کے چک 48 جنوبی کی 24 سالہ دوشیزہ فرزانہ کی شادی اس کے کزن محمد امجد سے ہوئی جو شادی کے بعد بیرون ملک گیا اور واپس نہ آیا تو غیر آباد دلہن نے خولہ لیتے ہوئے سلانوالی کے چک 60 جنوبی کے پہاڑی مزدور نوجوان منصب علی سے 22 دسمبر 2018 کو پسند کی شادی کر لی۔جس کے بعد وہ حاملہ تھی کہ اس کے دونوں بھائیوں تنویر،سیف نے ماموں عامر کے ہمراہ 20 جنوری 2020 کو اسلحہ کے زور پر فرزانہ بی بی کو سسرال سے اغواء کر لیا۔جس کے شوہر منصب علی نے بیوی کے اغواء کا مقدمہ سسرال ہی کے خلاف تھانہ سلانوالی میں درج کروایا تو ملزمان نے منت سماجت کرتے ہوئے فرزانہ بی بی کی باقاعدہ رخصتی دینے کے لئے وعدہ وحید کر کے ٹال مٹول کی۔جس روز حاملہ کی رخصتی کا وقت دیا گیا اسی دوران تیزاب پی کر اقدام خودکشی ظاہر کر کے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستہ میں ہی دم توڑ گئی۔جس کی نعش ضروری کاروائی کے بعد پولیس نے ورثاء کے سپرد کر دی اور تھانہ عطاء شہید میں مرنے والی فرزانہ کے شوہر منصب علی کی رپورٹ پر اس کی بیوی کو زہریلی چیز دے کر قتل کے الزام دوشیزہ کے دونوں بھائیوں تنویر، سیف،

ماموں عامر اور بھاوج ریحانہ بی بی کے خلاف زیر دفعہ 302/147/149 ت پ مقدمہ قتل درج کر لیا گیا جس میں ملزمان پر ہم صلاح مشورہ ہو کر فرزانہ بی بی کو رخصتی کی بجائے قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا جبکہ اس کے خود کو کمرے میں بند کر کے اقدام خودکشی کے واقعات بھی بتلائے جا رہے ہیں۔تاہم دوشیزہ کو سپردخاک کر دیا گیا اور پولیس حکام نے حالات و واقعات کی مفصل رپورٹ طلب کرتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرکے شواہد حاصل کئے اور بیانات قلم بند کر مصروف تفتیش ہے اور اس قتل یا خودکشی کے معمہ کے حل تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا جس میں مرنے والی کی میڈیکل رپورٹ سے بھی حقائق کا پردہ چاک ہونا متوقع ہے۔پولیس تھانہ عطاء شہید تاحال مصروف تفتیش اور پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…