جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خطے میں ایران کی تابع ملیشیاؤں کی باگ ڈور حسن نصر اللہ کے حوالے کرنیکاانکشاف،قائدین پر کیا زور دیتے رہے؟جانئے

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

تہران(این این آئی)باخبر ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی قیادت نے خطے میں اپنے عسکری دھڑوں کا معاملہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے حوالے کر دیا ہے۔

عرب ٹی وی سے گفتگومیں باخبر ذرائع نے کہاکہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے لیے یہ نیا مشن خارج از امکان نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ سلیمانی کے ساتھ بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ (حزب اللہ کا گڑھ) میں اْس رابطہ دفتر کی نگرانی کر رہا تھا جہاں عراق، شام اور یمن میں ایران کے تابع مسلح گروپوں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ نصر اللہ نے گذشتہ دنوں کے دوران بیروت میں ایران کی حمایت کرنے والے زیادہ تر مسلح گروپوں کی سینئر قیادت سے ملاقات کی جن میں زیادہ تر عراقی ملیشیاؤں کے رہ نما تھے۔ ملاقات میں سلیمانی کی ہلاکت کے بعد آئندہ مرحلے کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے واسطے ایک نقشہ راہ وضع کرنے پر بات چیت ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ حسن نصر اللہ نے عراقی ملیشیاؤں کے قائدین پر زور دیا کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو ایک جانب رکھ کر امریکی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…