جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

وزیراعظم کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سلیم اللہ خان ایڈووکیٹ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔اس ضمن میں عدالت عالیہ کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب حقائق واضع ہوں تو کسی اجتماع میں غیر ارادی غلطی کوگستاخی کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، گستاخی کا الزام اس وقت بھی ٹھیک نہیں جب مکمل واضع ہو کہ متعلقہ شخص ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔فیصلے میں فاضل جج نے لکھا کہ ایمان اور یقین ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے دوسروں کو اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے، توہین رسالت کا الزام لگانے کے حوالے سے ہمیشہ انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 62 ون ای کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو عدالتی کاروائی کے ذریعے نہیں ماپا جاسکتا ، آرٹیکل 199 کے تحت کسی منتخب نمائندے کو اہل یا نااہل کرنے کے حوالے سے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے وزیراعظم عمران خان کے ایمان اور یقین پر سوال اٹھایا ہے، تسلیم شدہ حقیقت ہے وزیراعظم نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔یاد رہے گزشتہ روز عدالت نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر دائر نااہلی کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔درخواست گزارسلیم اللہ ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر کیس کے مدعی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت عالیہ نے توہین عدالت پر جس عمران خان کو آج معاف کیا وہ توہین مذہب بھی کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان قرآن سے وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جو اس میں موجود نہیں، جس پرعدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ درخواست پر فیصلے کا انتظار کریں۔درخواست گزار نے جواب میں کہا کہ فیصلے کے انتظار کا مطلب درخواست مسترد ہی ہوتا ہے۔فاضل جج نے درخواست گزار کے رویے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل ہیں، عدالت کا احترام ملحوظ خاطررکھیں۔جس پر درخواست گزار سلیم اللہ نے کمرہ عدالت میں ہتھکڑی لہراتے ہوئے کہا کہ مجھے توہین عدالت میں گرفتار کرا دیں۔ اس موقع پر فاضل جج نے کہا کہ آپ عدالت میں معاملہ لائے ہیں، اس پر حکم جاری کیا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…