اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

مشرف کو سزا سے بارڈر پر جان کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے کھڑے ہر سپاہی کو دکھ ہوا: چوہدری شجاعت نے بھی سابق صدر کے حق میں آواز بلند کردی

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پرویزمشرف کو سزا سے بارڈر پر جان کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے کھڑے ہر سپاہی کو دکھ ہوا ہے۔

پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل پرویزمشرف کے علاوہ ہمیں فوج کے اس سپاہی کے احساسات و جذبات کی بھی تشویش ہونی چاہئے جو مادرِوطن کی حفاظت کیلئے یا سیاچن سمیت ہر بارڈر پر کھڑا دشمن فوج کی ہر چال کا مقابلہ کر رہا ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہا ہے، اس بات کا بھی خیال کرنا چاہئے کہ دور دراز کے علاقوں میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جب اسے پتہ چلے کہ اس کے سپہ سالار کو غدار کہا جا رہا ہے تو اس پر کیا بیتے گی، کسی بھی ملک کا آرمی چیف آسانی سے نہیں بنتا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ جنرل مشرف ہوں یا کوئی بھی فوجی، جنرل کے عہدے تک پہنچنے کیلئے قابلیت، احساسات اور ملک و قوم سے محبت کے جذبات اس میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں، 1947ء سے اب تک ہزاروں مثالیں ملتی ہیں کہ ہمارے فوجی جوانوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں اور وطن عزیز کی حفاظت کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنی جھوٹی اور جعلی قابلیت کی بنیاد پر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، اپنے ڈرائنگ رومز اور ٹی وی شوز میں بیٹھ کر مباحثوں کے دوران فوج کے خلاف اپنی جھوٹی قابلیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مشرف نے دو جنگیں لڑیں آج جو لوگ ان کے خلاف غداری کا واویلا کر رہے ہیں اِن سب نے اُن سے حلف لیا، عوام کو گمراہ کن لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے محافظوں کو اس طرح کے جھوٹے لوگوں سے محفوظ رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منفی پراپیگنڈے سے صرف اور صرف ہمارے دشمن کو فائدہ ملتا ہے جو اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…