منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

عوام صرف ایک ماہ انتظار کریں، حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے، مولانا فضل الرحمان کے بیان نے حکومتی ایوانوں میں تھرتھلی مچا دی

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

ملتان(این این آئی) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ عوام کو صرف ایک ماہ انتظار کرنا ہوگا پھر آئین اور جمہوریت کے مطابق تبدیلی آئے گی،آزادی مارچ نے ملکی سیاسی جمود کو توڑا ہے، عوام کی قوت نے بتادیا ناجائز حکومت کو کوئی سہارا نہیں دے سکتا، اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں وزیراعظم استعفیٰ دیں اور فوج کے بغیر دوبارہ الیکشن کروائے جائیں،نئے الیکشن کے بغیر کوئی دوسرا راستہ حکومت کے پاس نہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ نے ملکی سیاسی جمود کو توڑا ہے، عوام کی قوت نے بتادیا ناجائز حکومت کو کوئی سہارا نہیں دے سکتا، اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں وزیراعظم استعفیٰ دیں اور فوج کے بغیر دوبارہ الیکشن کروائے جائیں، نئے الیکشن کے بغیر کوئی دوسرا راستہ حکومت کے پاس نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرمی چیف کے حوالے سے قانون بنانے میں کوئی حرج نہیں، یہ حکومت جعلی ہے اور یہ اہم قانون سازی ہے لہذا اس حکومت میں یہ کام نہیں ہونا چاہیے، اگر یہ ناجائز حکومت اس پر قانون سازی کرے تو پاک آرمی کے سربراہ متنازعہ ہو جائیں گے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ امریکا نے سی پیک کے حوالے سے سخت بیان دیا جب کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو سی پیک کی سزا دی جارہی ہے، سی پیک کو ایک سال تک معطل رکھا گیا اور جب دوبارہ کام شروع ہوا تو دھمکی آگئی۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو ایک ماہ صرف انتظار کرنا ہوگا، ایک ماہ میں آئین اور جمہوریت کے مطابق تبدیلی آئے گی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی احتساب نہیں ہے، سیاسی لوگوں کو قوم کے سامنے مجرم پیش کرنا زیادتی ہے، بیماری پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اتحادیوں کی بدلی ہوئی زبان اسی کی طرف اشارہ ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…