بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ،مزید 19افرادہلاک،تعداد100ہوگئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق میں احتجاجی مظاہروں کے پانچویں روز سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید19 افراد ہلاک اور 70زخمی ہوگئے ۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عراق میں خصوصی ایلچی جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملک میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں احتجاجی مظاہروں میں قریبا ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا کا اظہار کیاہے اورکہاہے کہ اس خونریزی کو فوری طور پر

روکا جانا چاہیے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں کرفیو ہٹائے جانے کے بعد تشدد کے مزید واقعات پیش آئے اور بے روزگاری اورسرکاری محکموں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے عراقی شہریوں کے احتجاج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔پولیس حکام اور طبی ذرائع کے مطابق بغداد کے علاقے الشولہ میں سورج غروب ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے ۔بغداد کے مرکزی چوک التحریر کے نزدیک بھی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس سے مزید دو افراد ہلاک ہوگئے۔اس علاقے میں کل نو مظاہرین سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے ۔دارالحکومت کے جنوبی علاقے ظفرانیہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک شخص دم توڑ گیا ۔اس علاقے میں اتوارکو دوافراد کی ہلاکت ہوئی ۔سکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اشک آور گولوں کا استعمال کیا اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے سیکڑوں مظاہرین پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔ادھر جنوبی شہر ناصریہ سمیت عراق کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے دو سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو نذر آتش کردیا ۔دو عراقی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی تھی۔ تاہم اس فائرنگ سے

فوری طور پر کسی کے مرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ایک اور جنوبی شہر دیوانیہ میں مظاہرین نے مقامی حکومت کے دفاتر کی جانب مارچ کیا ۔بغداد میں کرفیو کے ہٹائے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور گرین زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ بغداد کے اس قلعہ نما علاقے میں غیرملکی سفارت خانے اور سرکاری دفاتر واقع ہیں۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے

سیکریٹری جنرل کے عراق میں خصوصی ایلچی جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملک میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں احتجاجی مظاہروں میں قریبا ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا کا اظہار کیا اورکہاکہ اس خونریزی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ پانچ دن میں مظاہرین کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہی ملی ہیں،اس کو روکا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…