اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ،مزید 19افرادہلاک،تعداد100ہوگئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق میں احتجاجی مظاہروں کے پانچویں روز سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید19 افراد ہلاک اور 70زخمی ہوگئے ۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عراق میں خصوصی ایلچی جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملک میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں احتجاجی مظاہروں میں قریبا ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا کا اظہار کیاہے اورکہاہے کہ اس خونریزی کو فوری طور پر

روکا جانا چاہیے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں کرفیو ہٹائے جانے کے بعد تشدد کے مزید واقعات پیش آئے اور بے روزگاری اورسرکاری محکموں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے عراقی شہریوں کے احتجاج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔پولیس حکام اور طبی ذرائع کے مطابق بغداد کے علاقے الشولہ میں سورج غروب ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے ۔بغداد کے مرکزی چوک التحریر کے نزدیک بھی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس سے مزید دو افراد ہلاک ہوگئے۔اس علاقے میں کل نو مظاہرین سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے ۔دارالحکومت کے جنوبی علاقے ظفرانیہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک شخص دم توڑ گیا ۔اس علاقے میں اتوارکو دوافراد کی ہلاکت ہوئی ۔سکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اشک آور گولوں کا استعمال کیا اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے سیکڑوں مظاہرین پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔ادھر جنوبی شہر ناصریہ سمیت عراق کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے دو سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو نذر آتش کردیا ۔دو عراقی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی تھی۔ تاہم اس فائرنگ سے

فوری طور پر کسی کے مرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ایک اور جنوبی شہر دیوانیہ میں مظاہرین نے مقامی حکومت کے دفاتر کی جانب مارچ کیا ۔بغداد میں کرفیو کے ہٹائے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور گرین زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ بغداد کے اس قلعہ نما علاقے میں غیرملکی سفارت خانے اور سرکاری دفاتر واقع ہیں۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے

سیکریٹری جنرل کے عراق میں خصوصی ایلچی جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملک میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں احتجاجی مظاہروں میں قریبا ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا کا اظہار کیا اورکہاکہ اس خونریزی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ پانچ دن میں مظاہرین کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہی ملی ہیں،اس کو روکا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…