بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ ایئرپورٹس پر مسلمانوں کیساتھ کیا سلوک ہونے لگا ، لاکھوں واقعات سامنے آگئے

datetime 21  اگست‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی )انسانی حقوق کی تنظیم نے برطانیہ کے ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر مسلمان مرد و خواتین کو محض ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر 6 گھنٹوں سے زائد تک روکنے اور ان سے مضحکہ خیز سوالات پوچھنے والے عملے کو اسلاموفوبیا کا متاثرین قرار دے دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کیج نامی تنظیم نے بتایا کہ اسلاموفوبیا میں مبتلا حکام مسلمان خواتین کو اسکارف اتارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق سال 2000 سے اب تک صرف مسلمان مرد و خواتین کو ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر روکنے کے 4 لاکھ 20 ہزار واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ گرفتاری کی شرح 0.007 فیصد رہی۔انسانی حقوق کی تنظیم نے 10 شہریوں کی وساطت سے اعلیٰ پولیس حکام کو شکایت درج کرائی اور’برٹش مسلم‘ تنظیم کے ذریعے برطانوی وزیراعظم سے ’شیڈول 7‘ قانون سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ دہشت گردی ایکٹ 2000 کے شیڈول 7 کی بنیاد پر ایئرپورٹ کا تفتیشی عملہ بغیر کسی قابل ذکر جواز کے مسافروں کو غیرمعینہ وقت کے لیے روک کر تفتیش کرسکتا ہے۔تنظیم کے ڈائریکٹر عدنان صدیقی نے اپنے مراسلہ میں لکھا کہ لاکھوں مسلمانوں کو ’بغیر کسی شبہ‘ کے روک لیا جاتا ہے اور یہ عمل اسلاموفوفیا کا عکاس ہے جسے ہراساں کے زمرے میں دیکھا جائے۔لندن سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے بتایا کہ 2005 کے بعد سے برطانیہ میں داخل ہوتے وقت انہیں مجموعی طور پر 40 مرتبہ ایئرپورٹ پر شیڈول 7 کے تحت روکا گیا اور ایک مرتبہ بھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ فرانس، بیلجیم اور اٹلی سے واپسی پر انہیں تقریباً 95 فیصد روکا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں ہر مرتبہ برطانیہ میں داخل ہوتے وقت حکام کے سوالات سے پریشان آچکا ہوں۔ادھر کیمبریج یونیورسٹی کی 2004 میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر روکے گئے 88 فیصد لوگ مسلمان تھے۔شیڈول 7 کے تحت روکے گئے بیشتر مسلمانوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ کا سیکیورٹی عملہ ان سے ان کے مذہب کے بارے میں سوالات کرتا ہے، مثلاً کیا آپ باقاعدگی سے عبادت کرتے ہیں، کبھی مکہ گئے، کیا باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں، جیسے سوالات کیے جاتے۔علاوہ ازیں جنگ زدہ ملک شام میں مقامی تنظیم کے لیے فلم بنانے والے ایک مسلمان فلمساز نے بتایا کہ ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام اس طریقے سے روکتے اور سوالات پوچھتے ہیں، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسلامی عقائد کو تسلیم کرکے کوئی جرم کر چکے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…