جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

دفعہ 370کی منسوخی کے بعدہم اپنی شناخت کھوچکے ہیں ، کشمیریوںکے خدشات

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(سی پی پی)مقبوضہ کشمیر میں لوگ وادی میں ظلم و تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ دفعہ 370کی منسوخی سے ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت تبدیل ہوسکتی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں 50سالہ فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ہم اس فیصلے سے حیران اور مایوس ہیں۔

کیونکہ اس دفعہ کے ساتھ ہمارے جذبات وابستہ ہیں ۔ اس کی منسوخی کا مطلب ہے کہ ریاست مسلم اکثریتی شناخت کھو بیٹھے گی۔ فاروق آج کل جموں میں ہیں۔ جموں شہر میں مقیم وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے 20سالہ ارشد وارثی نے کہاکہ وہ ہمیں کب تک گھروں میں محصور رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ 370کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے تحفظات کا اظہار بھی نہ کرسکیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سکول ٹیچر نے موجودہ بحران کا ذمہ دار مقامی بھارت نواز سیاستدانوں کو قراردیا۔ انہو ںنے کہاکہ آج ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ ہم اپنی شناخت کھوچکے ہیںاوربدقسمتی سے بھارت نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے امن قائم ہونے کے بجائے عوام میں مزاحمت کا جذبہ مزید پختہ ہوجائے گا۔ ایک تاجر جلیل احمد بٹ نے کہاکہ وادی میں غیر یقینی صورتحال کا مطلب ہے کہ ان کا کاروبار غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوجائے گااور ان کی روزی روٹی پر ضرب لگ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کرفیو کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد کوئی پتہ نہیں کیا ہوجائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بدترین صورتحال کی طرف جارہے ہیں۔ انہوںنے موبائل فون اور انٹرنیٹ کی معطلی پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ وادی کشمیر کے لوگوں کا باقی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہوچکا ہے۔

جلیل بٹ نے کہاکہ میرے دو بچے حصول تعلیم کے لیے وادی کشمیر سے باہر ہیںاورہمارا ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں کی صورتحال سے بہت پریشان ہونگے اورمجھے نہیں پتہ کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ادھیڑ عمر کی ایک خاتون تاجر فاطمہ بانو نے کہا کہ یہ دلیل کہ دفعہ 370کے خاتمے سے دہائیوں سے جاری عوامی تحریک ختم ہوجائے گی سمجھ سے باہر ہے۔جموں میں مقیم ایک گھریلو کشمیری خاتوں نصرت نے کہاکہ ہم نہیں جانتے کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے۔

میں نے گزشتہ رات کشمیر میں اپنے خاندان سے فون پر بات کی جس سے مجھے بڑے پیمانے پر بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کا پتہ چلا۔ نئی دہلی سے واپس آتے ہوئے فیاض احمد ڈار نے کہاکہ وادی کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ان کا دل ٹوٹ چکا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ13اگست کو میری چھوٹی بہن کی شادی ہے اور ہم نے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ میری بہن کی شادی ہوبھی پائے گی یا نہیں۔ واضح رہے کہ بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی سے مقبوضہ کشمیر میں خوف ودہشت پھیل گیا ہے اور لوگ گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…