اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی میں کتنی فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں؟سپریم کورٹ میں بڑا انکشاف

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

کراچی (سی پی پی )سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیاہے۔سعید غنی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے

انکار پر لیا گیا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ کراچی سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے مزید وقت نہیں دے سکتے۔ شہر میں چلنے والے غیرقانونی شادی ہال ہٹانا پڑیں گے۔اٹارنی جنرل،سیکرٹری دفاع،میئر کراچی،ایڈووکیٹ جنرل ،ایم ڈی واٹر بورڈ اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسر پیش ہوئے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ مبہم ہے۔ یہ دستخط کیا کسی پٹے والے کے ہیں۔عدالت کے کہنے پر سیکرٹری دفاع نے رپورٹ پر دستخط کردیئے۔جسٹس گلزار نے کہا کہ کراچی میں 70فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ عدالتی فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا۔شادی ہال چل رہے ہیں ۔آپ نہیں ہٹائیں گے تودوسرے کیسے عمل کریں گے؟جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ یہ سب ہٹانا پڑیں گے۔حکومت کام کرنا چاہے تو پانچ منٹ لگتے ہیں۔ بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔ وزیر بلدیات کہتے ہیں وہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے۔ یہ لوگ عدالت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔عدالت نے وزیربلدیات سندھ کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے ، انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کچھ جگہیں لیزپر ہیں، وقت دیں تو سروے کرالیتے ہیں۔عدالت نے کہا یہ بائیس جنوری کا فیصلہ ہے۔ مزید وقت نہیں دے سکتے۔دوران سماعت جسٹس گلزار اور سینئر ر وکیل رشید اے رضوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔رشید رضوی نے کہا آپ کسی کی نہیں سن رہے۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کنٹونمنٹ بورڈ کو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں۔ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے، توغلط ہے۔ عدالت نے گلوبل مارکی کے مالکان کی طرف سے دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…