منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں کتنی فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں؟سپریم کورٹ میں بڑا انکشاف

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

کراچی (سی پی پی )سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیاہے۔سعید غنی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے

انکار پر لیا گیا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ کراچی سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے مزید وقت نہیں دے سکتے۔ شہر میں چلنے والے غیرقانونی شادی ہال ہٹانا پڑیں گے۔اٹارنی جنرل،سیکرٹری دفاع،میئر کراچی،ایڈووکیٹ جنرل ،ایم ڈی واٹر بورڈ اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسر پیش ہوئے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ مبہم ہے۔ یہ دستخط کیا کسی پٹے والے کے ہیں۔عدالت کے کہنے پر سیکرٹری دفاع نے رپورٹ پر دستخط کردیئے۔جسٹس گلزار نے کہا کہ کراچی میں 70فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ عدالتی فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا۔شادی ہال چل رہے ہیں ۔آپ نہیں ہٹائیں گے تودوسرے کیسے عمل کریں گے؟جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ یہ سب ہٹانا پڑیں گے۔حکومت کام کرنا چاہے تو پانچ منٹ لگتے ہیں۔ بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔ وزیر بلدیات کہتے ہیں وہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے۔ یہ لوگ عدالت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔عدالت نے وزیربلدیات سندھ کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے ، انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کچھ جگہیں لیزپر ہیں، وقت دیں تو سروے کرالیتے ہیں۔عدالت نے کہا یہ بائیس جنوری کا فیصلہ ہے۔ مزید وقت نہیں دے سکتے۔دوران سماعت جسٹس گلزار اور سینئر ر وکیل رشید اے رضوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔رشید رضوی نے کہا آپ کسی کی نہیں سن رہے۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کنٹونمنٹ بورڈ کو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں۔ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے، توغلط ہے۔ عدالت نے گلوبل مارکی کے مالکان کی طرف سے دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…