اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

لبنان میں 200فلسطینی پناہ گزین جوڑوں کی اجتماعی شادیاں

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

بیروت(این این آئی)لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے جوڑوں کی اجتماعی شادی کی سب سے بڑی تقریب جنوبی بیروت میں قائم کی گئی۔عرب ٹی وی کے مطابق اس اجتماعی شادی میں 200 اجتماعی جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان میں 150 فلسطینی پناہ گزین جوڑے

جب کہ 50 مقامی جوڑے شامل تھے۔ معاشی طورپر مشکلات کے شکار فلسطینی پناہ گزینوں کی اجتماعی شادی کا یہ سب سے بڑا پروگرام تھا۔تقریب میں فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں وہ بیروت میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے لبنان گئے تھے۔ اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس نے شرکت سے معذرت کرلی تھی اور وزیراعظم کو اپنا نمائندہ بنا کراجلاس میں بھیجا تھا۔بیروت میں فلسطینیوں کی اجتماعی شادی کی اس تقریب کا اہتمام تنظیم آزادی فلسطین اور فلسطینی ایوان صدر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ فلسطینی ایوان صدر اور پی ایل او کی طرف سے اجتماعی شادی کے چار پروگرامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو پروگرامات غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں منعقد ہوچکے ہیں۔ تیسری تقریب لبنان میں اور چوتھی شام میں منعقد کی جائے گی۔لبنان میں فلسطین پناہ گزین کیمپوں کی عوامی کمیٹیز کے چیئرمین ابو ایاد شعلان جو اجتماعی شادی کی تقریب میں شریک تھے نے کہا کہ اجتماعی شادی کا مقصد پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی زندگی آسان بنانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی شادی میں معاشی طورپر کمزور افراد کو شامل کیا گیا۔خیال رہے کہ لبنان میں 12 فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں ایک لاکھ 74 ہزار پناہ گزین قیام پذیر ہیں جب کہ آزاد ذرائع کے مطابق لبنان میں پانچ لاکھ فلسطینی پناہ گزین مقیم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…