پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی فیسوں میں پانچ یا 10نہیں بلکہ کتنے فیصد کمی کا حکم دیدیا، ہر سال فیسوں میں صرف کتنا اضافہ کر سکیں گے؟ چیف جسٹس نے والدین کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں میں 20 فیصد فیس کم کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے ایف آئی اے کو اسکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا حکم د یدیا، نجی اسکولز آئندہ تعلیمی سال کے لیے پانچ فیصد فیسوں میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں میں 20 فیصد فیس کم کرنے

کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہت ،سپریم کورٹ کی جانب سے نجی اسکولوں میں بھاری فیسوں کے معاملے پر سنائے گئے فیصلے کے تحریری حکم نامے کے مطابق 22 نجی اسکولوں کو اپنی فیسیں کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ نجی اسکولز آئندہ تعلیمی سال کے لیے پانچ فیصد فیسوں میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔تحریری فیصلے کے مطابق فیسوں میں چھ سے آٹھ فیصد اضافہ ریگولیٹری باڈی کی اجازت سے مشروط کیا گیا ہے جب کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وصول کی گئی فیس کو ایڈجسٹ کرنے کا دو ماہ میں والدین کو واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ کوئی بھی نجی اسکول بند نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی طالب علم کو اسکول سے نکالا جائے گا اور اگر اسکول بند کیا گیا یا کسی بھی طالب علم کو اسکول سے نکالا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 22 تعلیمی اداروں کے ٹیکس کی جانچ پڑتال کرنے جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اسکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم پہلے کے تمام احکامات پر تقویت رکھے گا۔دریں اثنا چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آج ججز، عدالتی افسران، سرکاری افسران کی دہری شہریت ازخودنوٹس کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اہم سرکاری عہدوں

پردہری شہریت والے افسروں کوتعینات نہ کیا جائے۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ہدایتکی کہ کابینہ کی منظوری کے بعد دہری شہریت کے معاملے پر قانون سازی کی جائے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آئندہ اہم سرکاری عہدوں پر دہریشہریت والے افسران کو تعینات نہ کیا جائے۔اس کیس کے سلسلے میں اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد پر مشتمل لسٹ عدالت میں پیش کی تھی جو کہ دہری شہریت کے حامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…